شیطان اور فرشتہ کے درمیان
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۶، صفحہ ۱۵
شیطان اور فرشتہ کے درمیان
قرآن کے مطابق، ہر انسان ہر وقت دو طاقتوں کے درمیان ہوتا ہے— فرشتہ اور شیطان۔ ہر موقعے پر فرشتہ اور شیطان دونوں متحرک ہوجاتے ہیں۔ فرشتہ کے لیے انسان کے اندر داخلے کا راستہ (entry point) اس کا ضمیر (conscience) ہے۔ شیطان کے لیے انسان کے اندر داخلے کا دروازہ اس کا ایگو (ego) ہے۔ فرشتہ ہر موقع پر آدمی کو صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اس کے برعکس ، شیطان ہر موقعے پر انسان کو غلط راستہ دکھاتا ہے۔ انسان جس کی رہنمائی سے متاثر ہو جائے، اسی کی طرف وہ چل پڑے گا۔
اس معاملے کی ایک تاریخی مثال وہ ہے، جس کا تعلق خلیفہ ثانی عمر بن خطاب سے ہے۔ ان کے زمانے میں مدینہ میں ایک نصرانی ابولوؤ لُو فیروز رہتا تھا۔ اس نے خلیفہ ثانی سے شکایت کی کہ میرا خراج زیادہ ہے۔ خلیفہ ثانی نے اس سے خراج کی مقدار پوچھی۔ ابو لولو فیروز نے بتایا۔ پھر خلیفہ ثانی نے اس سے آمدنی پوچھی، تو اس نے بتایا۔ تو خلیفہ ثانی نے کہا کہ آمدنی کے لحاظ سے تمھارا خراج زیادہ نہیں ہے۔ ابولو لو اس پر غصہ ہو گیا۔ وہ ایک دن فجر کے وقت مدینہ کی مسجد میں داخل ہوا، اور خنجر مار کر خلیفہ ثانی کو قتل کر دیا۔ (ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، طبعۃ بیروت : 3/ 1979 / 49- 50) خلیفہ ثانی عمر بن خطاب بلا شبہ ایک عادل حکمراں تھے۔ انھوں نے ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبے میں امن اور قسط کا نظام قائم کیا تھا۔ لیکن ابو لؤلؤ فیروز نے اتنے بڑے واقعے کو نہیں دیکھا۔ وہ ایک چھوٹے سے واقعے پر غصہ ہو گیا، یہاں تک کہ اس نے خلیفہ کو قتل کر دیا۔ اس وقت اس پر شیطان کا غلبہ ہو گیا تھا۔ بڑا واقعہ اس کو چھوٹا نظر آیا، اور چھوٹا واقعہ اس کو بڑا دکھائی دیا۔ حتیٰ کہ ایک عادل حکمراں اس کی نظر میں ایک ظالم حکمراں بن گیا۔ اس واقعے میں ہر عورت اور ہر مرد کے لیے سبق ہے۔ جب بھی کوئی شخص غصہ ہو تو اس کو اس سے بچنا چاہیے کہ وہ معاملے کے بڑے پہلو کو چھوٹا سمجھے، اور معاملے کے چھوٹے پہلو کو بڑا سمجھنے لگے۔ اگر ایسا ہو تو اس کو سمجھنا چاہیے کہ وہ شیطان کے قبضے میں آگیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2016 All issues