تیسرا انتخاب
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۶، صفحہ ۴۴
تیسرا انتخاب
دسمبر ۲۰۰۴ کو میں نے دہلی اور جے پور کے درمیان سفر کیا۔ سفر کے لیے میرے سامنے دو ممکن صورتیں تھیں، ٹرین یا ہوائی جہاز۔ غیر شعوری طور پر میرا ذہن یہ بن گیا کہ یا تو ٹرین سے سفر کرنا ہے یا ہوائی جہاز سے۔ ٹرین (شتابدی ایکسپریس) دہلی سے صبح کے وقت جے پور جاتی تھی اور شام کے وقت جے پور سے دہلی آتی تھی۔ ٹرین کا انتخاب کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں ۱۸ دسمبر کی صبح کو جے پور گیا اور ۱۹ دسمبر کی شام کو دہلی واپس آیا۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ ۱۹ دسمبر کا دن میں نے کھودیا۔ ۱۹ دسمبر کو دہلی میں ایک بہت ضروری پروگرام تھا مگر میں اس میں شرکت نہ کر سکا۔ یہ واقعہ ثنائی طرز فکر (dichotomous thinking) کی بنا پر پیش آیا۔ یعنی صرف دو انتخاب (options) کے درمیان سوچنا۔ بعد کو مجھے احساس ہوا کہ میرے لیے یہاں تیسرا انتخاب بھی تھا۔ وہ یہ کہ میں ۱۸ دسمبر کی صبح کو ٹرین کے ذریعہ جے پور جاؤں ، اور ۱۹ دسمبر کی صبح کو سواری بدل کر ہوائی جہاز کے ذریعہ دہلی واپس آؤں۔ ایسی صورت میں ۱۹ دسمبر کے پروگرام میں بخوبی شریک ہوسکتا تھا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان اکثر ثنائی طرز فکر کا شکار رہتا ہے۔ وہ اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کے لیے صرف دو صورتوں میں سے ایک صورت کا انتخاب ہے۔ حالاں کہ وہاں ایک تیسری صورت بھی موجود رہتی ہے جو زیادہ مفید ہوتی ہے۔ تاریخ کی بہت سی نا کامیاں اسی ثنائی طرز فکر کا نتیجہ تھیں۔ مثلاً بہت سے لوگوں نے اپنے حالات کے ناقص اندازہ کی بنا پر یہ سمجھ لیا کہ ان کے لیے صرف دو ممکن صورتیں ہیں، یا جنگ یا ذلت کی زندگی۔ حالاں کہ وہاں تیسری صورت بھی موجود تھی، اور وہ یہ کہ جنگ کو اوائڈ کر کے امن قائم کرنا اور مواقع کو استعمال کر کے اپنے کو مستحکم بنانا۔ اس حکمت کو نہ جاننے کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے غیر ضروری طور پر اپنے کو تباہ کر لیا، حالاں کہ اگر وہ تیسرے انتخاب کو لیتے تو وہ اس کو استعمال کر کے بہت بڑی کامیابی حاصل کر سکتے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2016 All issues