Al-Risala · March 2016 · page 47

حقیقت پسندی،معیار پسندی

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۶، صفحہ ۴۷

حقیقت پسندی،معیار پسندی

ایک دانش مند نے داخلی حکمت، اور خارجی حکمت کو مانتا ہے، نہ کوتار ترین سٔس کا وندوں کر ایک دانشمند کے دانی عصمت اور خارجی عصمت تو بہانے ہوے لہا ہے؟ بارے میں جاننا ، دانش مندی ہے۔ اور اپنے بارے میں جاننا، ذہنی بیداری: Knowing others is wisdom; knowing the self is enlightenment. موجودہ دنیا میں سے آدمی کے لئے دو قسم کی تیاری درکار ہوتی ہے، اس کے نے اعتبار دوسروں کے سے اور دوسرا ول)

موجودہ دنیا میں ہر آدمی کے لیے دو قسم کی تیاری درکار ہوتی ہے، اپنے اعتبار سے اور دوسروں کے اعتبار سے۔ یہ دونوں ہی تیاری یکساں طور پر ضروری ہے۔ کسی ایک میں تیار ہونا اور دوسرے میں تیار نہ ہونا، آدمی کے لیے کافی نہیں۔

دوسروں کے بارے میں دانش مندی یہ ہے کہ آدمی دوسروں سے وہی امید کرے جو باعتبار حقیقت ممکن ہے۔ اس معاملے میں ضرورت سے زیادہ امید(over-expectation) ہمیشہ نقصان کا باعث ہوتا ہے۔ دوسروں کے بارے میں امید قائم کرتے ہوئے آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے جذبات کو پوری طرح الگ رکھے اور صرف امرِ واقعہ کی بنیاد پر امید قائم کرے۔ جہاں تک اپنی ذات کا تعلق ہے، اس معاملے میں آدمی کو چاہیے کہ وہ آخری امکان تک جائے ۔ وہ آخری حد تک اپنے آپ کو دریافت کرے، وہ آخری حد تک اپنے آپ کو استعمال کرنے کی کوشش کرے، دوسروں کے معاملے میں حقیقت پسندی (realism) مطلوب ہے، اور اپنے معاملے میں معیار پسندی (idealism)۔

ایک صاحب کو مشورہ دیتے ہوئے میں نے کہا۔ اپنے گھر کے اندر آپ آئیڈیلسٹ (idealist) بنیے، اور گھر سے باہر نکلتے ہی پریکٹیکل (practical) بن جائیے ۔ ان دو طرفہ تقاضوں کو نبھانا، ایک مشکل کام ہے۔ اس دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو ان دو طرفہ تقاضوں کو نبھائیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے معاملے میں حقیقت پسند (realist) ہو اور اپنے معاملے میں معیار پسند (idealist)۔ جس آدمی کے اندر اس کے برعکس مزاج ہو، وہ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2016 All issues

Printed page