Prima facie it stands rejected.
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۴
اسلامی تاریخ کا فکری مطالعہ اور معلوم نہ ہو سکا کہ نظام اسلام کا نظام صرف تیس سال قائم رہا، اس کے بعد عملاً مسلمانوں کے درمیان ملوکیت کا نظام قائم ہو گیا۔ اسلام کے بارے میں تعلیم یافتہ لوگوں کا یہ عام تصور ہے۔ لیکن یہ تصور پوری طرح غلط فہمی پر مبنی ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اسلام اپنی پوری چودہ سوسالہ تاریخ میں مسلسل طور پر اپنی اصل حالت پر قائم رہا ہے اور آج بھی قائم ہے۔ تاریخ میں بظاہر جو تبدیلیاں دکھائی دیتی ہیں، وہ اسلام کے اضافی حصہ (relative part) میں ہیں، نہ کہ اسلام کے اصل حصہ (real part) میں۔ اس بات کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ (58:21)۔ یعنی اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔ بے شک اللہ قوت والا، زبردست ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح انسانی تاریخ پر اللہ کا غلبہ مسلسل طور پر قائم ہے، اسی طرح پیغمبروں کا مشن بھی انسانی تاریخ پر ہمیشہ اور ہر حال میں غالب رہے گا۔ یہ بات ایک حدیث رسول حسب روایت ابن عباس اس طرح بیان ہوئی ہے: الإسلام يعلو ولا يعلى عليه (شرح معانی الآثار، حدیث نمبر 5267) یعنی اسلام ہمیشہ غالب رہے گا، وہ کبھی مغلوب نہ ہوگا۔
قرآن اور حدیث کے ان بیانات کے مطابق، اسلامی تاریخ کی وہی تعبیر صحیح ہے جس میں مساوی طور پر تسلسل پایا جائے۔ جو تعبیر اسلامی تاریخ کو خلافت اور ملوکیت کے دو غیر مساوی ادوار میں تقسیم کریں، وہ بداہتہ قابلِ رد ہیں۔
Prima facie it stands rejected.
انسانی تاریخ کا سفر اجرامِ سماوی (astronomical body) کے سفر کی مانند نہیں ہے۔ اجرامِ سماوی کا سفر ہمیشہ یکساں رفتار (uniform speed) کے ساتھ چلتا ہے۔ لیکن انسانی
‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues