استقامت کا حکم
الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۵
استقامت کا حکم
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عن سفیان بن عبد اللہ الثقفی، قال : قلت : یار سول اللہ حدثنی بأمر أعتصم به ، قال : قل ربي الله ثم استقم ، قلت : یا رسول الله ما أخوف ما تخاف علي، فأخذ بلسان نفسه، ثم قال: هذا . (سنن الترمذی ، حدیث نمبر 2410) سفیان بن عبد اللہ الثقفی روایت کرتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول، مجھے ایک ایسی بات بتائیے جس کو میں مضبوطی کے ساتھ پکڑ لوں۔ آپ نے فرمایا کہ کہو کہ اللہ میرا رب ہے، اور پھر اس پر قائم ہو جاؤ۔ میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول مجھے سب سے زیادہ کس چیز سے ڈرنا چاہیے جس کا آپ مجھ پر خوف کھاتے۔ آپ نے اپنی زبان پکڑی، پھر فرمایا کہ اس سے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھنے والے کو قول پر استقامت کا حکم دیا۔ قول پر استقامت کیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ زندگی میں بار بار ایسے معاملات پیش آئیں گے جو تم کو اپنے قول سے ہٹانے والے ہوں، مگر تم اس سے غیر متاثر رہ کر اپنے قول پر جمے رہنا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ تم ہر ایسی بات کو اللہ کے حوالے کردو، اور اپنے قول کی طرف لوٹ جاؤ۔
قول سے ہٹنے کا سبب زیادہ تر زبان کی بنا پر ہوتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص زبان سے ایسی بات کہہ دیتا ہے جو سننے والے کو بری معلوم ہوتی ہے۔ اس کو غصہ آ جاتا ہے، وہ بدلہ لینے کے درپے ہو جاتا ہے، وہ چاہنے لگتا ہے کہ کہنے والے کو نقصان پہنچا کر اس کو سبق سکھائے۔ ایسے تمام مواقع پر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ زبان کے شر سے اپنے آپ کو بچائے۔ زبان کا غلط استعمال بات کو بڑھاتا ہے، اور زبان کا صحیح استعمال بات کو ختم کر دیتا ہے۔ زندگی میں اکثر بحران (crisis) زبان کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کرائسس مینیجمنٹ (crisis management) کا آرٹ سیکھے۔ وہ بحران کو مینج (manage) کرکے اس کو ابتدا ہی میں ختم کردے۔