Al-Risala · May 2016 · page 8

جاہلوں سے اعراض

الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۸

علم کی اہمیت

علم کی اہمیت کے بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں۔ ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: و من سلك طريقا يلتمس فيه علما، سهل الله له به طريقا إلى الجنة (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2699) یعنی جو شخص ایک راستے پر علم کے حصول کے لیے چلے، اللہ اس کے ذریعے اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان کر دیتا ہے۔

علم کے راستے پر چلنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی سچائی کے حصول کے لیے علمی مطالعہ کا طریقہ اختیار کرے۔ ایسا انسان اگر واقعۃً سچائی کا طالب ہے تو اس کا علمی مطالعہ اس کے یقین کو بڑھائے گا۔ سچائی کے نئے نئے گوشے اس پر کھلیں گے۔ سچائی کو وہ زیادہ گہری سطح پر دریافت کرے گا۔ سچائی پر اس کا یقین مسلسل طور پر بڑھتا چلا جائے گا۔ علمی سفر اس کے لیے جنت کا سفر بن جائے گا۔ اس کا علمی مطالعہ اس کے لیے ایک ایسا فکری عمل (intellectual process) بن جائے گا، جو مسلسل طور پر اس کے ذہنی ارتقا میں اضافہ کرے گا۔ اس کی شخصیت ربانی شخصیت بن جائے گی۔ اس کی سوچ، اس کی گفتگو، اس کا طرزِ عمل، ہر چیز میں پاکیزگی آتی چلی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ ایک مزکّی شخصیت (طٰه: 76) بن جائے گا، جس کے لیے فرشتے جنت کے تمام دروازے کھول دیں، اور یہ کہیں کہ جس دروازے سے تم چاہو، جنت میں داخل ہو جاؤ۔

علم کا حصول آدمی کے ذہنی افق کو بلند کرتا ہے۔ علم کا حصول آدمی کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) پیدا کرتا ہے۔ علم آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ معرفت حق کے اعلیٰ درجات تک پہنچے۔ علم آدمی کو اندھیرے سے اجالے میں لاتا ہے، علم آدمی کو محدودیت سے نکالتا ہے، اور اس کو لامحدود فضا میں پہنچا دیتا ہے۔ علم آدمی کے اوپر دانش (wisdom) کے وہ دروازے کھول دیتا ہے، جو کسی اور ذریعے سے آدمی کے اوپر کبھی نہیں کھلتے۔ علم آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے فطری امکانات کو اپنے لیے واقعہ بنا سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2016 All issues

Printed page