تنقید یا الزام تراشی
الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۱۴
تنقید یا الزام تراشی
کسی شخص کو غلط بتانے کے لیے جب آپ کے پاس کوئی دلیل نہ ہو بلکہ صرف الزام ہو تو سمجھ لیجیے کہ آپ خود غلطی پر ہیں۔ عقل اور اسلام دونوں کا تقاضا ہے کہ آدمی کسی کے خلاف بولے تو صرف اُس وقت بولے، جب کہ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے اُس کے پاس کوئی حقیقی دلیل ہو۔ اگر اُس کے پاس حقیقی دلیل نہیں ہے، اور وہ عیب زنی اور الزام تراشی کی زبان میں اپنی بات پیش کر رہا ہے تو یہ بلاشبہ ایک عظیم گناہ ہے۔ وہ انسان کو قتل کرنے کے ہم معنی ہے۔ ایسے شخص سے آخرت میں کہا جائے گا کہ تم دوسرے کے خلاف جو الزام لگاتے تھے، اُس کو دلیل سے ثابت کرو اور جب وہ اپنی بات کو دلیل سے ثابت نہ کر سکے گا تو اُس سے کہا جائے گا کہ جو الزام تم نے دوسرے کے اوپر لگایا تھا، اُس کی سخت تر سزا تم بھگتنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ عیب زنی اور الزام تراشی کے لیے، صحیح لفظ کردار کشی (character assassination) ہے۔ کسی کے خلاف الزام تراشی کرنا، اُس کو کردار کے اعتبار سے قتل کرنے کے ہم معنی ہے۔ یہ جسمانی قتل سے کم گناہ نہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مومن پر دوسرے مومن کی تین چیزیں حرام ہیں۔ اُس کا خون، اُس کا مال، اور اُس کی عزت (کل المسلم علی المسلم حرام دمہ و مالہ و عرضہ)۔ صحیح مسلم، رقم الحدیث 6706۔ اس حدیث میں بظابر مسلم کا لفظ ہے۔ لیکن وسیع تر انطباق کے اعتبار سے، اس کا تعلق ہر انسان، ہر عورت اور ہر مرد سے ہے۔ جو آدمی اس بات کو جانتا ہو کہ آخر کار اُس کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے، وہ اس معاملہ میں کانپ اٹھے گا۔ وہ اس حرام فعل سے، اُس سے بھی زیادہ بچے گا جتنا کہ کوئی شخص سانپ اور بچھو سے بچتا ہے۔ تنقید (criticism) ہر انسان کا ایک جائز حق ہے۔ مگر تنقید کو لازماً مبنی ہر دلیل ہونا چاہئے ۔ جس تنقید کے ساتھ دلیل شامل نہ ہو، وہ سخت گناہ ہے۔ علمی تنقید بلاشبہ ایک خیر ہے، مگر غیر علمی تنقید بلاشبہ ایک شر۔