Al-Risala · January 2016 · page 23

توسط اور اعتدال

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۶، صفحہ ۲۳

توسط اور اعتدال

حدیث میں آیا ہے: خير الأمور أوساطہا۔ (شعب (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر : 6175) یعنی معاملات میں درمیانی طریقہ خیر کا طریقہ ہوتا ہے۔ یعنی عملی رعایت کا طریقہ۔ دین میں اعتدال کی بہت اہمیت ہے مگر اعتدال کی اہمیت با اعتبار ابدی اصول نہیں ہے بلکہ اس کی اہمیت عملی حکمت (practical wisdom) کی بنا پر ہے۔ دوسرے الفاظ میں اعتدال کا مسئلہ عقیدہ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ عملی ضرورت کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلہ میں دو باتیں بے حد اہم ہیں ۔

ایک یہ کہ اعتدال کا تعلق عقائد سے نہیں ہے بلکہ معاملات سے ہے۔ اعتدال اصولی معاملات میں نہیں ہوتا بلکہ اعتدال عملی معاملات میں ہوتا ہے۔ جہاں تک اصول یا عقیدہ کا معاملہ ہے، اس میں ہمیشہ معیار (ideal) مطلوب ہوتا ہے۔ اور معیار کے معاملہ میں سچائی صرف ایک ہوتی ہے۔ اس میں کوئی متوسط راستہ یا غیر متوسط راستہ نہیں ہوتا۔

دوسری بات یہ ہے کہ اعتدال کی اہمیت عملی ضرورت کی بنا پر ہے۔ اس دنیا میں ہر انسان کو فکر کی آزادی حاصل ہے۔ اس بنا پر انسانوں کے درمیان عملی اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ ان اختلافات کو ختم کرنا اور سارے انسانوں کو ایک طریقہ کا پابند بنانا ممکن نہیں ہوتا۔ اس بنا پر یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اس طرح کے معاملہ میں اعتدال و توازن (balance) کا طریقہ اختیار کرو کہ لوگوں کے درمیان ٹکراؤ نہ ہو اور زندگی کا نظام پر امن انداز میں چلتا رہے۔

اس اعتدال کا تعلق عقیدہ سے نہیں ہے بلکہ عمل سے ہے۔ عقیدہ ہمیشہ ابدی اصول پر قائم ہوتا ہے۔ اس لیے اس میں توسط کا سوال نہیں۔ عمل کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ عمل کا تعلق ظاہری فارم سے ہوتا ہے۔ ظاہری فارم میں حالات کی نسبت سے ایڈجسٹمنٹ کیا جا سکتا ہے تا کہ ٹکراؤ کی صورت پیدا نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2016 All issues

Printed page