Al-Risala · May 2016 · page 24

مدح ، تنقید

الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۲۴

طور پر مذموم قرار دیا گیا ہو جس طرح مدح کو مذموم قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ اس کے برعکس تنقید کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ مثلاً بہت سی حدیثوں میں لسان کے ذریعہ نہی عن المنکر کا حکم آیا ہے اور اُس کو ایمان کی لازمی علامت بتایا گیا ہے۔ اسی طرح حدیث میں بتایا گیا ہے کہ سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنا ایک افضل جہاد ہے، وغیرہ۔

ظاہر ہے کہ اس قسم کا کام تنقید ہی کی زبان میں ہوگا، نہ کہ تعریف کی زبان میں۔ جب بھی ایک شخص کسی برائی کو دیکھے، خواہ برائی کرنے والا کوئی عام آدمی ہو یا خاص آدمی، اور پھر وہ اُس کے خلاف لسانی جہاد کرے تو یہ لسانی جہاد عین وہی فعل ہوگا جس کو تنقید کہا جاتا ہے۔ نقد یا تنقید دراصل لسانی جہاد کا ہی دوسرا نام ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ شریعت میں مدح اور تنقید کے درمیان یہ فرق کیوں کیا گیا ہے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ مدح ایک اخلاقی برائی ہے جب کہ تنقید ایک اعلیٰ درجہ کی علمی اور اخلاقی خوبی ہے۔ کسی معاشرہ میں مدح کارواج پورے معاشرہ کو منافقت کا معاشرہ بنا دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں جس سماج میں تنقید اور اختلاف کو سننے کا مزاج ہو وہ معاشرہ ذہنی اور فکری ترقی کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔

تنقید ایک مسلسل احتساب کا عمل ہے۔ تنقید زندہ معاشرہ کی علامت ہے۔ کسی معاشرہ میں تنقید کا عمل نہ ہونا یا تنقید کو بُرا سمجھنا صرف اُس وقت ہوتا ہے جب کہ معاشرہ زوال کا شکار ہو گیا ہو۔ وہ زندگی کی حرارت کھو بیٹھا ہو۔ کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے کی صلاحیت اُس کے اندر باقی نہ رہی ہو۔ تنقید کی حیثیت ایک علمی اور فکری چیلنج کی ہے۔ چیلنج ہر قسم کی ترقی کی واحد ضمانت ہے۔ جس معاشرہ میں چیلنج نہ ہو وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ اسی طرح جو معاشرہ تنقید سے محروم ہو جائے وہ علمی اور فکری ترقی سے بھی محروم ہو جائے گا۔

اس معاملہ کی تفصیل میں نے اپنی کتاب دین انسانیت کے باب حرّیت فکر میں بیان کی ہے اور اسلام کے دورِ اول کی مثالوں سے اُس کو واضح کیا ہے۔ تاہم تنقید اور تنقیص میں بہت زیادہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2016 All issues

Printed page