Al-Risala · May 2016 · page 27

موت کی یاد: ایک صحت مند عمل

الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۲۷

(سنن الترمذي، حدیث نمبر: 2307) - یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو، وہ لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ موت کی یاد حقیقتِ حیات کی یاد ہے۔ موت کی یاد آدمی کو بتاتی ہے کہ اس کے پاس لامحدود وقت نہیں۔ کسی بھی لمحہ وہ وقت آ سکتا ہے، جب کہ اس کی موجودہ زندگی ختم ہو جائے۔ اس طرح موت کی یاد آدمی کے اندر جلدی کا احساس (sense of urgency) پیدا کرتی ہے۔ آدمی کے اندر محرک (incentive) پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنے کام کو جلد پورا کرے، کیوں کہ کچھ معلوم نہیں کہ کب وقت ہو جائے اور کام کرنے کا موقع باقی نہ رہے۔ اس طرح موت کی یاد آدمی کو منصوبہ بند عمل کرنے پر ابھارتی ہے۔ اور منصوبہ بند عمل بلاشبہ زندگی میں سب سے بڑی چیز ہے۔ موت کی یاد آدمی کے اندر ذہنی بیداری (intellectual awakening) کی صفت پیدا کرتی ہے۔ موت کی یاد آدمی کی چھپی ہوئی ذہنی صلاحیتوں کو جگاتی ہے۔ موت آدمی کے لیے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ ہے۔

اسلامی نظریہ حیات کے مطابق، موت کی یاد کا فائدہ بے شمار گنا بڑھ جاتا ہے۔ اسلامی نظریۂ حیات بتاتا ہے کہ آدمی کی زندگی موت پر ختم نہیں ہوتی۔ موت کے بعد ایک اور زندگی ہے جو کہ ابدی طور پر قائم رہنے والی ہے۔ آدمی موت سے پہلے کے دور حیات میں جیسا عمل کرے گا، اُسی کے مطابق، وہ موت کے بعد کے دورِ حیات میں کامیاب یا ناکام رہے گا۔ یہ احساس آدمی کے اندر مقصدیت کا شعور پیدا کرتا ہے۔ وہ زیادہ بامعنی انداز میں زندگی گزارنے کے قابل بن جاتا ہے۔ عام تصور کے مطابق، موت کی یاد صرف موت کی یاد ہے، یعنی خاتمۂ حیات کی یاد۔ لیکن اسلامی تصورِ حیات کے مطابق، موت کی یاد کا مطلب یہ ہے کہ آدمی بعد از موت دورِ حیات کے لیے تیاری کرے۔ وہ آج کی زندگی کو ایک موقع (opportunity) سمجھے، جب کہ وہ بعد کو آنے والے ابدی دورِ حیات کے لیے عمل کر سکتا ہے۔ یہ تصورِ موت آدمی کو اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے — زندگی صرف ایک بار ملتی ہے۔ اب یہ آدمی کے اپنے اوپر ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کامیاب بناتا ہے یا نا کام۔ وہ اس پہلے اور آخری موقع کو استعمال کرتا ہے یا وہ اُس کو کھو دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2016 All issues

Printed page