خدا کا تجربہ
الرسالہ، جون ۲۰۱۶، صفحہ ۴
خدا کا تجربہ
صحیح مسلم میں ایک حدیث نقل ہوئی ہے اس کا ایک حصہ یہ ہے:
ان الله عز و جل يقول يوم القيمة يا بن آدم مرضت فلم تعدنی قال يا رب كيف اعودك وانت ربُّ العلمين قال ما علمت ان عبدی فلانا مرض فلم تعده أما علمت انک لو عدته لوجدتنی عنده (صحیح مسلم ، کتاب البر والصلة والادب، باب فضل عيادة المريض 16/126) یعنی اللہ تعالی قیامت کے دن کہے گا اے ابن آدم ، میں بیمار ہوا مگر تم نے میری عیادت نہ کی۔ بندہ کہے گا کہ اے میرے رب ، میں کس طرح تیری عیادت کرتا جب کہ تو سارے عالم کا رب ہے۔ اللہ تعالی کہے گا ، کیا تم نے نہیں جانا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا مگر تم نے اس کی عیادت نہ کی۔ کیا تم نے نہیں جانا کہ تم اگر اس کی عیادت کرتے تو یقینا تم مجھ کو اس کے پاس پاتے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی آدمی خالص رضائے الہی کے لئے ایک کام کرتا ہے تو کام کے درمیان اس پر ایسی کیفیات گزرتی ہیں جب کہ وہ لقاء رب کا تجربہ کرتا ہے۔ اس وقت اس کا یہ حال ہوتا ہے گویا کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔
مریض کی ایک عیادت وہ ہے جس میں رضاءِ الہی کا جذبہ شامل نہ ہو۔ جس کو آدمی نمائش کے لئے یا کسی فائدہ کے لئے کرے۔ ایسی عیادت صرف دنیوی مقصد کے لیے ہوتی ہے۔ وہ آدمی کے اندر ربانی کیفیات پیدا نہیں کرتی ۔ دوسری عیادت وہ ہے جب کہ خدا کا ایک بندہ کسی انسان کی بیماری کوسن کر تڑپ اٹھتا ہے ۔ اس کو خدا کا یہ حکم یاد آتا ہے کہ تم دوسرے انسانوں پر رحم کرو میں قیامت کے دن تمہارے اوپر رحم کروں گا۔ وہ خالص رضاءِ الہی کے جذبہ کے تحت مریض کی طرف روانہ ہوتا ہے اور مریض کے حق میں دعائیں کرتا ہوا اس کے پاس پہنچتا ہے۔
بندۂ مومن خدا کا تجربہ دنیا میں بھی کرتا ہے اور آخرت میں بھی ۔ فرق یہ ہے کہ دنیا میں یہ تجربہ بالواسطہ انداز میں ہوتا ہے اور آخرت میں وہ زیادہ مکمل صورت میں براہ راست انداز میں ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2016 All issues