Al-Risala · June 2016 · page 6

سب سے زیادہ خطرناک

الرسالہ، جون ۲۰۱۶، صفحہ ۶

سب سے زیادہ خطرناک

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یدخل الجنۃ من کان فی قلبہ مثقال ذرۃ من کبر (صحیح مسلم، حدیث نمبر : 147) یعنی وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی کبر ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت سے محرومی کا اندیشہ سب سے زیادہ اس انسان کے لیے ہے جو کبر یا ذاتی بڑائی کے احساس میں مبتلا ہو۔ جس کے اندر وہ برائی ہو جس کو انانیت (arrogance) کہا جاتا ہے۔

اس معاملہ کا سب سے زیادہ نازک پہلو یہ ہے کہ جس آدمی کے اندر کبر ہو تو اس کو خود یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ میں کبر کی برائی میں مبتلا ہوں۔ ایک شخص نماز اور روزہ کو ترک کر دے یا وہ زکوٰۃ نہ دے اور حج نہ کرے تو اس کو پوری طرح معلوم رہتا ہے کہ میں فلاں عبادت ادا نہیں کر رہا ہوں۔ کوئی شخص شراب پئے یا خنزیر کا گوشت کھائے تب بھی وہ اپنے اس گناہ سے باخبر رہتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص شرک و بت پرستی میں مبتلا ہو تب بھی وہ جانتا ہے کہ میں کون سا گناہ کر رہا ہوں۔ لیکن کبر ایک ایسا گناہ ہے جس کا احساس آدمی کو خود نہیں ہوتا۔

پھر کوئی شخص کبر کے گناہ سے کس طرح بچے ۔ اس کا سب سے زیادہ آسان طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو دوسروں کی نظر سے دیکھنے لگے۔ کبر کی برائی سے آدمی اگر چہ خود تو بے خبر ہوتا ہے مگر دوسرے لوگ اس کو اچھی طرح جان لیتے ہیں۔ دوسرے لوگ پہلے ہی تجربہ میں سمجھ لیتے ہیں کہ فلاں شخص کبر کی نفسیات میں مبتلا ہے۔ اس لئے جو آدمی جنت سے محرومی کا رسک نہ لینا چاہتا ہو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی اس برائی کو جاننے کے لئے دوسروں کو ذریعہ بنائے۔ جب کوئی دوسرا شخص اس کو بتائے کہ تمہارے اندر کبر کی برائی ہے تو وہ اس کو سنجیدگی کے ساتھ سنے اور غیر جانب دارانہ انداز سے اپنے اوپر نظر ثانی کرے ۔ وہ دوسرے آدمی کی بات کو ٹھیک اسی طرح لے جس طرح وہ اپنے چہرہ پر لگے ہوئے دھبہ کے بارے میں آئینہ کی اطلاع کو کسی ناگواری کے بغیر قبول کر لیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2016 All issues

Printed page