Al-Risala · June 2016 · page 17

تشدد کا سبب عدم قناعت

الرسالہ، جون ۲۰۱۶، صفحہ ۱۷

اعتدال کا طریقہ ک ابوعکم تمہارا حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کو چاہئے کہ تم توسط و اعتدال کا طریقہ اختیار کرو (قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: عليكم القصد) مسند احمد 4/406۔

قصد یا توسط و اعتدال کا تعلق کسی ایک معاملے سے انہیں ہے بلکہ اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ مثلاً جب آدمی چلے تو وہ اعتدال کے ساتھ چلے ۔ بولے تو وہ اعتدال کے انداز میں بولے۔ عبادات میں وہ اعتدال کا طریقہ اختیار کرے۔ انفاق اور اعانت میں بھی وہ معتدل رویہ اختیار کرے، وغیرہ۔ اسی طرح جب کسی سے اختلاف ہو جائے تو اختلاف میں بھی فریقین کو چاہئے کہ اعتدال پر قائم رہیں۔ وہ اختلاف کے وقت اعتدال کی حد سے باہر نہ چلے جائیں۔ مثلاً جب دو آدمیوں میں کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو اولاً ان کو ایسا کرنا چاہئے کہ وہ سنجیدہ گفت و شنید کے ذریعہ اپنے اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ اگر اس طرح اختلاف ختم ہوجائے تو بہت اچھا ہے اور اگر اختلاف ختم نہ ہو تو نہیں اختلاف کے باوجود اتحاد کے اصول پر عمل کرنا چاہئے ۔ ان کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے سے یہ کہہ دیں کہ آؤ ہم اس پر اتفاق کر لیں کہ رہا چاہئے۔ اس رہا چاہ ہے یہ رہے ہیں کہ ار ہمارے درمیان اختلاف ہے :

قصد و اعتدال متانت اور وقار کی روش کا دوسرا نام ہے۔ یہ کسی آدمی کے سنجیدہ مزاج ہونے کی ایک علامت ہے۔ جو آدمی اپنے قول و فعل میں اعتدال پر قائم ہو وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ جذباتیت سے پاک ہے۔ وہ جب بولتا ہے تو سوچ کر بولتا ہے اور جب کرتا ہے تو سوچ سمجھ کر کرتا ہے، وہ سطحیت پسندی سے پاک ہے۔ اس کا کردار اس کی عقل کے تابع ہے نہ کہ اس کے جذبات کے تابع۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2016 All issues

Printed page