ارتقا کے تین درجے
الرسالہ، جون ۲۰۱۶، صفحہ ۱۹
کے مرحلے میں پہنچ کر عارف باللہ کا مقام حاصل کر لیتا ہے۔ ان تین ارتقائی مراحل کو حسب ذیل صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے:
1- پیدائشی شخصیت (born personality)
2- تیار شدہ شخصیت (developed personality)
3- عارفانہ شخصیت (realized personality)
پیدائشی شخصیت، خدا کی دی ہوئی شخصیت ہوتی ہے۔ پیدائشی شخصیت کے اعتبار سے ہر آدمی یکساں ہوتا ہے۔ صلاحیت کے اعتبار سے اگرچہ ایک انسان اور دوسرے انسان میں ہمیشہ فرق ہوتا ہے، لیکن اس فطری فرق کے باوجود تمام انسان امکانی استعداد (potential capacity) کے اعتبار سے یکساں حیثیت کے مالک ہوتے ہیں۔
اسی بات کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: المؤمن القوی خير و أحب إلى الله من المؤمن الضعيف، وفى كل خير احرص على ما ينفعك واستعن بالله ولا تعجز وإن أصابك شئ فلا تقل : لو أني فعلتُ كان كذا وكذا، ولكن قل : قدّر الله وما شاء فعل۔ فإنّ "لو" تفتح عمل الشيطان (صحیح مسلم، کتاب القدر؛ ابن ماجہ، مقدمہ؛ مسند احمد، جلد 2، صفحہ 370)۔ یعنی قوی مومن، اللہ کے نزدیک ضعیف مومن سے زیادہ بہتر اور پسندیدہ ہے، اور ہر ایک میں خیر ہے۔ جو چیز تمھارے لیے نافع ہو، اس کے تم حریص بنو اور اللہ سے مدد چاہو اور عاجز نہ ہو۔ اور اگر تمھارے خلاف کوئی بات پیش آئے تو یہ نہ کہو کہ کاش، میں نے ایسا اور ایسا کیا ہوتا۔ بلکہ یہ کہو کہ یہ خدا کا تقدیری منصوبہ تھا، اسی نے جو چاہا کیا۔ کیوں کہ "اگر" کہنا شیطان کے عمل کا دروازہ کھولتا ہے۔ اس حدیث میں مومن سے مراد انسان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان اگر اپنے اندر ایک اعتبار سے کمی محسوس کرے تو اس کو مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیوں کہ دوسرے اعتبار سے اُس کے اندر کوئی اور صفت زیادہ ہوگی۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی خداداد صلاحیت کو دریافت کرے اور حوصلہ مندانہ انداز میں اپنی زندگی کی تعمیر کرے ۔ جد و جہد حیات کے دوران اگر اس کو کوئی نقصان
‹ Previous page Next page › Contents of June 2016 All issues