سب سے بڑی خوشی
الرسالہ، جون ۲۰۱۶، صفحہ ۲۲
سب سے بڑی خوشی
ایک روایت صحیحین میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں : عن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله تعالى يقول لأهل الجنة: يا أهل الجنة، فيقولون : لبيك ربنا و سعديك، والخير في يديك۔ فیقول: هل رضيتم۔ فیقولون: وما لنا لا نرضى يا رب، وقد أعطيتنا ما لم تعط أحداً من خلقك۔ فیقول: ألا أعطيكم أفضل من ذلك۔ فیقولون: يا رب، وأي شییٔ أفضل من ذلك۔ فیقول: أحَلُّ عليكم رضواني فلا أسخط عليكم بعده أبداً (حدیث نمبر : 7518)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہلِ جنت سے کہے گا کہ اے اہل جنت، وہ کہیں گے اے ہمارے رب، لبیک و سعديك و الخير في يديك - اللہ تعالیٰ فرمائے گا، کیا تم راضی ہو۔ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب، ہم کیوں نہ راضی ہوں، حالاں کہ تو نے ہم کو وہ چیز عطا فرمائی جو مخلوقات میں سے کسی دوسرے کو نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، کیا میں تم کو اس سے بھی زیادہ افضل چیز نہ دوں۔ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب، وہ کیا چیز ہے جو اس سے افضل ہے۔ اللہ فرمائے گا، میں تمھارے لیے اپنی رضا کو واجب کرتا ہوں، اس کے بعد اب میں کبھی تم سے ناراض نہ ہوں گا۔ جنت بلاشبہ تمام نعمتوں کا مجموعہ ہے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کی تمام خواہشیں اور تمنائیں کامل درجے میں پوری ہوں گی۔ جو لوگ جنت میں داخل ہوں گے، وہ یہ محسوس کریں گے کہ انھیں تمام مسرتیں اپنی حقیقی صورت میں حاصل ہوگئیں ہیں۔ لیکن امکانی طور پر ایک اندیشہ اُن کے لیے پھر بھی موجود رہے گا، وہ یہ کہ جنت ان کو اللہ کے عطیہ کے طور پر ملی ہے، وہ خود اُس کے خالق نہیں ہیں۔ اللہ اگر چاہے تو جنت کو اُن سے چھین بھی سکتا ہے۔ مذکورہ حدیث اسی اندیشے کا جواب ہے۔ جب خود اللہ تعالی کی طرف سے اس کی ابدی رضا کا اعلان کر دیا جائے گا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جنت اب ہمیشہ کے لیے ان کی قیام گاہ بن چکی ہے، وہ ان سے کبھی چھینی جانے والی نہیں۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑی خوشی ہوگی جو اہلِ جنت کو حاصل ہوگی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2016 All issues