Al-Risala · June 2016 · page 33

بولنے پر کنٹرول

الرسالہ، جون ۲۰۱۶، صفحہ ۳۳

بولنے پر کنٹرول

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء کے سفر میں جزا وسزا کے معاملے کو تمثیل کے روپ میں دکھایا گیا۔ اُن میں سے ایک تمثیلی واقعہ یہ تھا: مر بثور عظیم يخرج من ثقب صغير يريد أن يرجع فلا يستطيع ـ قال: هذا الرجل يتكلم بالكلمة فيندم فيريد أن يردها فلا يستطيع ـ (رواه الطبراني والبزار، بحواله فتح الباری، جلد 7، صفحہ 63، باب حديث الإسراء) یعنی معراج کے دوران رسول اللہ ایک عظیم الجثہ بیل کے پاس سے گزرے۔ آپ نے دیکھا کہ وہ ایک چھوٹے سوراخ سے نکلتا ہے، پھر وہ چاہتا ہے کہ وہ واپس جائے، مگر وہ واپس نہیں جاسکتا۔ آپ کو بتایا گیا کہ یہ اُس انسان کی مثال ہے جو ایک بات کہتا ہے، پھر اس پر شرمندہ ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی بات کو واپس لےلے، مگر وہ اس کو واپس لینے پر قادر نہیں ہوتا۔

یہ اُس انسان کی مثال ہے جو غیر ذمہ دارانہ طور پر کسی کے خلاف ایک منفی بات کہہ دیتا ہے، پھر وہ دیکھتا ہے کہ اس کی منفی بات سے ایک بڑا فتنہ پیدا ہوگیا ہے۔ اب وہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی بات کو واپس لے، مگر وہ اس پر قادر نہیں ہوتا۔ اس کی منفی بات ایک فتنے کو جگا دیتی ہے۔ وہ ایک ایسے فتنے کا باعث بن جاتی ہے جس کو کہنے والے نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔

اس حدیث کا مدعا یہ ہے کہ آدمی کو بولنے کے معاملے میں بہت زیادہ محتاط رہنا چاہيے۔ اگر آدمی کوئی مثبت بات بولے تو اس میں کسی فتنے کا اندیشہ نہیں ہے۔

لیکن منفی بات کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ منفی بات ہمیشہ بہت تیزی سے پھیلتی ہے اور پھیلنے کے وقت اس میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ابتدا میں وہ بظاہر ایک چھوٹی بات معلوم ہوتی ہے، لیکن لوگوں کے درمیان پھیلنے کے بعد وہ نہایت سنگین صورت حال اختیار کرلیتی ہے، یہاں تک کہ آخر کار اس کے نتیجے میں نفرت اور تشدد کا جنگل آگ آتا ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کے اوپر فرض ہے کہ وہ نتیجہ (result) سے پہلے سوچے، وہ بولنے سے پہلے اس کے نتیجے پر غور کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2016 All issues

Printed page