دوسرے کے لیے دعا
الرسالہ، جون ۲۰۱۶، صفحہ ۳۵
دوسرے کے لیے دعا
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: دعوة المرء المسلم لأخيه بظهر الغيب مستجابة، عند رأسه ملك موکّل، كلّما دعا لأخيه بخير، قال الملک الموکّل به آمين ولك بمثل (کتاب الذکر والدعاء، باب فضل الدعاء للمسلمين بظهر الغیب) یعنی آدمی جب اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اُس کے لیے دعا کرتا ہے تو ایسی دعا قبول ہوتی ہے۔ اس کے پاس ایک فرشتہ موجود رہتا ہے۔ جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے خیر کی دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تمھاری دعا قبول ہو اور اسی کے مثل تمھارے لیے بھی۔ دوسرے کی غیر موجودگی میں اس کی بھلائی کے لیے دعا کرنا، ہمیشہ انسانی خیر خواہی کے جذبے سے ہوتا ہے۔ انسان کے لیے سچی خیر خواہی ایک عظیم عبادت ہے۔
جب بھی کسی آدمی کے اندر دوسرے انسان کے لیے سچی خیر خواہی کا جذبہ ابھرے اور وہ اُس انسان کی غیر موجودگی میں اس کے لیے اللہ سے دعا کرے، تو وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔ ایسی دعا کبھی ضائع نہیں جاتی۔
لیکن کوئی بھی دعا سنتِ اللہ کو منسوخ کرنے والی نہیں بن سکتی۔ دعا کی قبولیت ہمیشہ سنت اللہ کے مطابق ہوتی ہے۔ جہاں تک دعا کرنے والے کی ذات کا تعلق ہے، اس کو اپنے جذبہ خیر خواہی کی بنا پر ضرور ثواب ملے گا۔ لیکن جس شخص کے لیے دعا کی گئی ہے، اُس کے لیے دعا کی قبولیت اس پر منحصر ہے کہ وہ شخص واقعہ خود اپنے اندر اس کا کتنا زیادہ استحقاق رکھتا ہے۔ اللہ کی سنت کے مطابق ایسا نہیں ہو سکتا کہ دوسرا شخص خود اپنی ذات میں قبولیت کا استحقاق نہ رکھتا ہو، اس کے باوجود اس کو دعا کا فائدہ حاصل ہو جائے۔ کسی کے لیے دعا کرنا بلا شبہہ ایک عبادت ہے۔ لیکن کسی کے حق میں دعا کا قبول ہونا خالص ایک خدائی معاملہ ہے۔ یہ صرف اللہ کو معلوم ہے کہ ذاتی استحقاق کے اعتبار سے کون اس کا اہل ہے اور کون اس کا اہل نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2016 All issues