امانت کیا ہے
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۶، صفحہ ۷
امانت کیا ہے
خدا کے نقشۂ تخلیق کے مطابق ، انسان امانت الہی کا امین ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کا بیان یہ ہے : ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے، اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بے شک وہ ظالم اور جاہل تھا۔ تا کہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے۔ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کی توبہ قبول کرے۔ اور اللہ بخشنے والا، مہربان ہے (73:72-33)۔ امانت کا لفظی مطلب ٹرسٹ (trust) ہے۔ انسان کو جو امتیازی صفتیں دی گئی ہیں، وہ اس کے پاس بطور امانت ہیں۔ حدیث میں آیا ہے: خلق الله آدم علی صورته (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6227) یعنی اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ جو صفات (attributes) خالق کے اندر کمال کے درجے میں پائی جاتی ہیں، وہ انسان کوشمہ (iota) کے بقدر عطا کی گئی ہیں۔ ان صفات کے ساتھ انسان کو کامل اختیار دیا گیا ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنی اس آزادی کا غلط استعمال نہ کرے۔ بلکہ اس کو جائز حدود کے اندر استعمال کرے۔ جائز حدود کے اندر آزادی کو استعمال کرنے والے کے لیے ابدی زندگی میں جنت کا انعام ہے۔ اور جو شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے، اس کے لیے جہنم کی سزا ہے۔
اس سلسلہ بیان کا آخری حصہ یہ ہے: وَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مطلوب عمل سے مراد معیاری عمل نہیں ہے۔ انسان اپنی بشری کمزوری کی بنا پر ضرور غلطیاں کرے گا۔ اس لیے نجاتِ آخرت کا معیار غلطی سے پاک ہونا نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ غلطی کرنے کے بعد انسان کے اندر ندامت (repentance) کا شدید جذبہ پیدا ہو۔ وہ دوبارہ اللہ کی طرف رجوع کرے۔ وہ اپنی غلطی کا سچا اعتراف کر کے اللہ سے معافی کا طالب ہو۔ یہی وہ انسان ہے جس کو ابدی جنت میں داخلہ ملے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2016 All issues