Al-Risala · July 2016 · page 11

قرآن ایمپائر

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۶، صفحہ ۱۱

قرآن ایمپائر

قدیم زمانہ مواقع (opportunities) کی موناپلی (monopoly) کا زمانہ تھا۔ اس لیے قدیم زمانے میں صرف ایک ہی قسم کا ایمپائر بن سکتا تھا۔ اور وہ پولیٹیکل ایمپائر تھا۔ قدیم زمانے میں جتنے ایمپائر بنے وہ سب کے سب سیاسی ایمپائر تھے۔ موجودہ زمانہ خاتمہ اجارہ داری (de-monopolization) کا زمانہ ہے۔ اس سے سارے مواقع ہر ایک کے لیے کھل گیے۔ اس بنا پر ممکن ہو گیا کہ کوئی بھی شخص یا گروپ خالص پر امن طریقہ کار کے ذریعے اپنا ایمپائر کھڑا کر سکے۔ اس نئے امکان کو ابھی تک زیادہ تر سیکولر لوگوں نے استعمال کیا ہے۔ نئے مواقع سے فائدہ اٹھا کر انھوں نے اپنے اپنے ایمپائر بنا لیے ہیں۔ مثلاً ایجوکیشنل ایمپائر، انڈسٹریل ایمپائر، انسٹی ٹیوشنل ایمپائر (institutional empire)، وغیرہ۔

مگر مذہب کے معاملے میں اس امکان کو استعمال کرنے کا میدان ابھی تک خالی ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مذہب کے میدان میں اس امکان کو استعمال کرنے کا سب سے بڑا میدان یہ ہے کہ قرآن ایمپائر بنایا جائے۔ امکان (potential) کے اعتبار سے قرآن ایمپائر آج بھی موجود ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اس امکان کو عمل کی صورت میں کھڑا کیا جائے۔

پولیٹیکل ایمپائر کے لیے ضرورت ہوتی تھی کہ بہت سے ملکوں میں ایک بادشاہ کی حکومت قائم ہو۔ مگر موجودہ زمانے میں قرآن ایمپائر بنانے کے لیے کسی بڑے زمینی رقبے کی ضرورت نہیں، آج چھوٹے زمینی رقبہ میں بھی قرآن ایمپائر بنایا جا سکتا ہے۔

موجودہ زمانے میں کمیونی کیشن (communication) اور دوسرے عالمی وسائل نے ٹکنالوجی کو ہر دوسری چیز کا بدل بنا دیا ہے۔ آج یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ایک چھوٹے مرکز کو جدید وسائل کے استعمال سے عالمی سطح کا قرآن ایمپائر بنا دیا جائے۔ قرآن کا مختلف زبان میں ترجمہ خود اتنا بڑا کام ہے کہ اس کی بنیاد پر ایک اعلی درجے کا قرآن ایمپائر کھڑا کیا جاسکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2016 All issues

Printed page