Al-Risala · July 2016 · page 22

غلطی کے بعد

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۶، صفحہ ۲۲

اصل مسئلہ

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ کوئی خارجی سازش نہیں۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ دور حاضر سے بے خبر ہو گئے ہیں۔ مسلمان یہ سوچتے ہیں کہ دور حاضر ان کے لیے مسائل کا دور (age of problems) ہے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ موجودہ زمانہ مسلمانوں کے لیے مواقع کا زمانہ (age of opportunities) ہے۔

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: و علی العاقل أن يكون بصيرا بزمانه (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ یعنی دانش مند کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو۔ آدمی جب اپنے زمانے سے باخبر ہو تو وہ اپنے عمل کی صحیح منصوبہ بندی کرے گا۔ اور اگر وہ زمانے سے بے خبر ہو جائے تو اس کی سوچ بھی غلط ہو جائے گی، اور اس کی منصوبہ بندی بھی غلط۔ اکثر تعلیم یافتہ مسلمانوں کا خیال ہے کہ امریکا اسلام دشمن ہے۔ اس نظریہ کو عام طور پر اسلامو فوبیا (Islamophobia) کہا جاتا ہے۔ مگر یہ بات مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ کوئی بھی شخص امریکا کا سفر کرے، تو وہ پائے گا کہ وہاں کے مسلمان خوب ترقی کر رہے ہیں۔ وہاں بڑی تعداد میں مسجدیں اور اسلامی سینٹر قائم ہیں۔ مذہبی اعتبار سے وہاں مسلمانوں کو کوئی بھی رکاوٹ نہیں۔ اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ خود مسلمان امریکوفوبیا (Americophobia) میں مبتلا ہیں، نہ کہ امریکا اسلامو فوبیا میں۔ موجودہ زمانے کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ اس میں متعصبانہ فکر کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ جدید دور کا کلچر تمام تر ایک ہی اصول پر قائم ہے۔ اور وہ ہے مسابقت (competition)۔ مغربی دنیا کا فارمولا ایک لفظ میں یہ ہے: compete or perish مسلمان اپنی روایتی سوچ کی بنا پر یہ سمجھتے ہیں کہ مغرب ان کے خلاف سازش کرتا ہے، مغرب میں ان کے خلاف تعصب کیا جاتا ہے۔ یہ سب باتیں بالکل بے بنیاد ہیں۔ مسلمان صرف ایک کام کریں۔ وہ یہ ہے کہ وہ جدید تعلیم میں امتیازی درجہ حاصل کریں۔ اس کے بعد ان کو کسی سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2016 All issues

Printed page