اچانک زلزلہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۶، صفحہ ۳۳
اچانک زلزلہ
26 اکتوبر 2015 کو ایک زلزلہ آیا۔ اس کا مرکز ہندو کش پہاڑ تھا۔ اس زلزلے کے جھٹکے پاکستان، افغانستان، نیپال اور انڈیا میں محسوس کیے گیے۔ زلزلے کے جھٹکے محسوس کرتے ہی لوگ خوف زدہ ہو گئے اور اپنے گھروں اور اپنے دفتروں سے باہر نکل آئے۔ بعض مقامات پر جانی اور مالی نقصان بھی پیش آیا۔ زلزلہ انسان کے لیے ایک بھیا نک تجربہ ہے۔ زلزلہ ہمیشہ بالکل اچانک آتا ہے۔ اس لیے اس کے مقابلے میں پیشگی طور پر احتیاطی تدبیر ممکن نہیں ہوتی۔
ہمیشہ سے انسان یہ سوچتا رہا ہے کہ وہ زلزلہ سے پیشگی طور پر آگاہ ہو جائے تا کہ اس سے بچنے کی تدبیر کی جاسکے۔ موجودہ سائنسی دور میں مزید اضافہ کے ساتھ اس معاملے کی تحقیق کی گئی۔ مگر ابھی تک اس معاملے میں کوئی حقیقی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ 1970 کی دہائی میں سائنس داں یہ سمجھتے تھے کہ وہ زلزلے کی پیشگی علامت کو دریافت کر لیں گے۔ مگر تحقیق میں مسلسل ناکامی کے بعد 1990 کی دہائی میں یہ مان لیا گیا کہ زلزلے کے آمد کی پیشگی خبر سائنسی طور پر جاننا ناممکن ہے، حتیٰ کہ ایک سیکنڈ پہلے بھی نہیں:
In the 1970s, scientists were optimistic that a practical method for predicting earthquakes would soon be found, but by the 1990s continuing failure led many to question whether it was even possible...many others now maintain that earthquake prediction is inherently impossible. قرآن میں قیامت کو بڑا زلزلہ (22:1) بتایا گیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قیامت کا زلزلہ بالکل اچانک (43:66) آئے گا۔ اس کے مطابق، زمین پر آنے والے موجودہ زلزلے گویا چھوٹے زلزلے ہیں۔ اور اس کے مقابلے میں قیامت ایک زلزلہ عظیم ہے۔ زلزلہ صغیر اس لیے آتا ہے کہ انسان بیدار ہو جائے، اور زلزلہ عظیم کی پیشگی تیاری کرے۔ تا کہ ایسا نہ ہو کہ زلزلہ عظیم اچانک آ جائے جب کہ انسان نے اس کی کوئی تیاری نہ کی ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2016 All issues