مشتعل نہ ہوانے کا کرشمہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۶، صفحہ ۲۶
مشتعل نہ ہوانے کا کرشمہ
کسی بات کا جواب اگر مشتعل ہو کر دیا جائے تو اس کا نتیجہ منفی صورت میں نکلتا ہے۔ اور اگر آدمی سخت بات سنے مگر وہ اپنے اعتدال کو نہ کھوئے، بلکہ اشتعال کے بغیر جواب دے تو نتیجہ معجزاتی طور پر موافق صورت میں نکلے گا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اشتعال انگیز جواب سے سننے والے کی انا بھڑک اُٹھتی ہے۔ وہ غیر ضروری طور پر دشمن بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر معتدل انداز میں جواب دیا جائے تو سننے والے کا ضمیر جاگ اُٹھتا ہے۔ اور گفتگو فطری انداز میں ہونے لگتی ہے۔ پیدائشی طور پر ہر آدمی آپ کا دوست ہے۔ اس کے بعد آپ کا رویہ یا تو اس کی دوستی کو باقی رکھتا ہے یا اس کو دشمن بنا دیتا ہے۔ اس نوعیت کی ایک تاریخی مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاری قبائل (Mongols) نے عباسی سلطنت پر حملہ کر دیا۔ انھوں نے سمرقند سے لے کر حلب تک مسلم سلطنت پر قبضہ کر لیا۔ اس کے کچھ سال بعد یہ معجزاتی واقعہ ہوا کہ تاتاری قبائل کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔ اسلام کے دشمن اسلام کے خادم بن گئے۔ اس تاریخی واقعہ پر پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ، (Thomas Walker Arnold [1864-1930] نے ریسرچ کی ہے۔ ان کی کتاب دی پریچنگ آف اسلام 'Spread of Islam among the Mongols' کے باب (The Preaching of Islam)
کے تحت اس کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔
اس زمانے میں تاتاری لوگ مسلمانوں کو سخت حقیر سمجھنے لگے تھے۔ اس دور کا ایک واقعہ یہ ہے کہ ایک دن تاتاری شہزادہ تغلق تیمور خاں نے ایک ایرانی مسلمان، شیخ جمال الدین کو دیکھا۔ اس نے نفرت کے ساتھ کہا کہ تم اچھے یا میرا کتا اچھا۔ شیخ جمال الدین نے اس کو سن کر معتدل انداز میں جواب دیا، اگر میرا خاتمہ ایمان پر ہو تو میں اچھا۔ اور اگر میرا خاتمہ ایمان پر نہیں ہوا تو تمھارا کتا اچھا۔ یہ جواب سن کر شہزادہ کا غصہ ختم ہو گیا۔ اور اس نے شیخ کے ساتھ اچھا برتاؤ شروع کر دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2016 All issues