جنگ کوئی انتخاب نہیں
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۶، صفحہ ۳۷
جنگ کوئی انتخاب نہیں
امریکا کی قیادت میں صدام حسین کے خلاف عراق کی جنگ ہوئی ۔ یہ جنگ 2003 سے 2009 تک جاری رہی۔ اس جنگ میں بظاہر امریکا کو جیت ہوئی لیکن اس کے بعد اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا (ISIS) کی صورت میں ایک شدید تر مسئلہ پیدا ہو گیا۔ سابق برطانی وزیر اعظم ٹونی بلیر جو اس جنگ میں بطور حلیف شریک تھے، انھوں نے اس جنگ کو ایک غلطی قرار دیا ہے: Iraq war contributed to rise of IS: Britain’s former PM Tony Blair has apologised for mistake made over the Iraq war and said there were “elements of truth” to claims that the 2003 US-led invasion was the principle cause of the rise of IS. (The Times of India, New Delhi, October 26, 2015, p.22)
اس معاملے میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ عراق وار انتخاب کی غلطی کا ایک کیس تھا۔ اس جنگ میں امریکا اور برطانیہ کے چار ہزار سے زیادہ فوجی مارے گیے۔ اس جنگ کا خرچ تقریبا تین ٹریلین ڈالر تھا۔ لیکن نتیجہ برعکس صورت میں نکلا، خلیج کا مسئلہ پہلے سے بھی زیادہ شدید ہو گیا۔ اصل یہ ہے کہ جنگ کی نفسیات کے مطابق ، جنگ کا خاتمہ اس طرح نہیں ہوتا کہ ایک فریق دوسرے فریق کو ہرا دے۔ عملاً یہ ہوتا ہے کہ ہارا ہوا فریق اپنی ہار کو تسلیم نہیں کرتا، بلکہ اس کے اندر انتقام (revenge) کی نفسیات جاگ اٹھتی ہے۔ منفی رد عمل کا یہ جذبہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ اگر اس کے اندر جوابی جنگ کی طاقت نہ ہو تو خود خودکش بمباری (suicide bombing) کا طریقہ اختیار کر لیتا ہے۔ یعنی اپنے آپ کو ہلاک کر کے فریق ثانی کو نقصان پہنچانا۔ جنگ کوئی انتخاب (choice) نہیں۔ صحیح انتخاب یہ ہے کہ جنگی صورت حال کو پر امن طور پر بیچ کرنے کی کوشش کی جائے۔ اپنے آپ کو مثبت بنیادوں پر اتنا طاقت ور بنایا جائے کہ وہ مثبت تعمیر فتح کے لیے کافی ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2016 All issues