Al-Risala · August 2016 · page 4

اللہ کے بندے

الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۴

اللہ کے بندے

ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے : عن ابن عباس، رضی الله عنهما، قال: قال رجل: یا رسول الله، من أولیاء الله؟ قال : الذین إذا رؤوا ذکر الله (مسند البزار، حدیث نمبر 5034) ۔ یعنی ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اے اللہ کے رسول، اولیاء اللہ کون ہے، آپ نے فرمایا: وہ لوگ جن کو دیکھا جائے تو اللہ کی یاد آئے۔

اس حدیث رسول میں ”وہ لوگ جن کو دیکھا جائے“ کا مطلب ہے، جب تم ان سے ملو۔ اصل یہ ہے کہ ایک ربانی انسان جب سچائی کو دریافت کرتا ہے، اور وہ اللہ کے خوف ومحبت میں جینے والا بن جاتا ہے تو اس کے اندر سنجیدگی کا انداز پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کی ہر بات میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اللہ کا ذکر ہوتا ہے۔ وہ ہر معاملے کو اللہ کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ اس کی زندگی، عام انسان سے مختلف زندگی بن جاتی ہے۔ اس کی باتوں میں اللہ کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے ۔ وہ جو کچھ کہتا ہے، اس میں سننے والوں کے لیے رزق رب موجود ہوتا ہے۔ غیر متعلق باتیں اس کی زبان سے نہیں نکلتیں۔ بلکہ وہ جو کچھ کہتا ہے وہ تعلق باللہ کے زیر اثر ہوتا ہے۔ ان باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے پاس بیٹھنے والوں کو اس سے ایسی چیزیں ملنے لگتی ہیں جو دوسروں سے نہیں ملتی۔ محمد بن اسماعیل بن صلاح نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے یہ کہا ہے : ويحتمل أن المراد أنهم يذكرون العباد بالله تعالی (التنوير شرح الجامع الصغیر، الرياض، 2011، جلد 2، صفحہ 588)۔ یعنی احتمال یہ ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو کہ وہ لوگوں کو تذکیر کرتے ہیں، لوگوں کو اللہ کی یاد دلاتے ہیں۔ اس شرح کے مطابق ، جو واقعہ پیش آتا ہے، وہ صرف رویت کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ تذکیر کا نتیجہ ہوتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ کوئی پراسرار بات نہیں ہے، بلکہ وہ ایک معلوم صفت ہے جو فطری اسباب کے تحت کسی کے اندر پیدا ہو جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues

Printed page