Al-Risala · August 2016 · page 8

اعلاء کلمۃ الاسلام

الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۸

اعلاء کلمۃ الاسلام

بن لادن اور ان کی القاعدہ تحریک کو جو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے، وہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کے پیچھے وہ عمومی مسلم سائیکی (psyche) ہے جو موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں اتنی زیادہ پھیلی ہوئی ہے کہ شاید کوئی مسلمان بھی اس سے خالی نہیں۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ بن لادن کو تمام مسلمانوں کی عالمی سپورٹ حاصل ہوئی۔ اسی بنا پر ایسا ہوا کہ وہ اسلام کے نام پر اتنی زیادہ جرأت کے ساتھ اپنی تخریبی کارروائیاں جاری کر سکے۔ اگر بن لادن جیسے کو یہ اعتماد حاصل نہ ہو کہ پوری مسلم ملّت ان کے ساتھ ہے تو وہ اتنے زیادہ بے حوصلہ ہو جائیں گے کہ کسی دشمن کی گولی کے بغیر اپنے آپ ہی ان کا خاتمہ ہو جائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ بن لادن کے ظاہر ہ کو سمجھنے کے لیے دور جدید کے مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا۔ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان ایک عمومی احساس شکست میں جی رہے تھے۔ قرآن وحدیث میں وہ پڑھتے تھے کہ اسلام خدا ئے برتر کا دین ہے اور اسی کو حق ہے کہ وہ دنیا میں غالب ہو کر رہے۔ حدیث میں آیا ہے: الاسلام یعلو ولا یعلی (سنن الدارقطنی، حدیث نمبر 3620)۔ آج کا مسلم مائنڈ یک طرفہ طور پر یہ سمجھتا ہے کہ اسلام غلبے کا دین ہے۔ اسی کے ساتھ ہر مسلمان اس احساس میں جی رہا ہے کہ موجودہ زمانے میں اسلام مغلوب ہو کر رہ گیا ہے۔

اس عمومی نفسیات کے دوران جب مسلمانوں نے دیکھا کہ بن لادن ان کے مفروضے کے مطابق اسلام کے سب سے بڑے دشمن کو چیلنج کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ انہوں نے دیکھا کہ 11 ستمبر 2001 کو بن لادن نے ’’اسلام دشمن ملک‘‘ کے مینار عظمت کو ڈھادیا تو انہوں نے سمجھ لیا کہ بن لادن ہی ان کا وہ مطلوب شخص ہے جس کو خدا نے اسلام کے کلمے کو دوبارہ بلند کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔ چناں چہ وہ خوش ہو کر اس کے ساتھ ہو گئے اور اس کو ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے لگے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ بے بنیاد خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔ بن لادن کا اسلام سے کوئی تعلق

‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues

Printed page