اعلاء کلمۃ الاسلام
الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۱۰
میں شرک کا غلبہ تھا۔ مشرکانہ کلچر ہر ملک میں چھایا ہوا تھا، جس کو وقت کے حکمرانوں کی سیاسی سپورٹ حاصل تھی۔ اُس وقت اسلام کا مقابلہ توحید ورسس شرک کی حیثیت رکھتا تھا۔ دور اول کے مسلمانوں نے شرک کے مقابلے میں ہر قسم کی قربانیاں دیں۔ یہاں تک کے شرک کا دور عملاً ختم ہو گیا اور توحید کا دور شروع ہو گیا۔
تاریخ بتاتی ہے کہ یہ دور تقریباً ایک ہزار سال تک چلتا رہا۔ دوبارہ ایسا نہیں ہوا کہ شرک طاقتور ہو کر مذہب توحید کے مقابلے میں کھڑا ہو جائے۔ مگر قرون وسطیٰ میں مغرب کا وہ انقلاب، جس کو نشاۃ ثانیہ کہا جاتا ہے، ایک نئے طاقت ور حریف کی حیثیت سے سامنے آیا۔ اس کا واضح آغاز سولھویں صدی میں ہوا۔ اور چند صدیوں کے عمل کے بعد اس نے انتہائی طاقت ور حیثیت حاصل کرلی۔ اسلام کا یہ نیا طاقت ور حریف وہ تھا جس کو ایک لفظ میں سائنٹفک الحاد کہا جا سکتا ہے۔ سائنس علم فطرت کی حیثیت سے نہ مذہبی تھی اور نہ غیر مذہبی۔ مگر جدید سائنسی دور میں یورپ میں ایسے مفکرین اٹھے جنہوں نے سائنس کی دریافتوں کو بطور خود الحاد کے حق میں استعمال کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ جدید سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ تمام مذاہب، بشمول اسلام، صرف توہم پرستی کی پیداوار تھے۔ اس موضوع پر پچھلے دو سو سالوں میں ہزاروں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب کا ٹائٹل اس نوعیت کی تمام کتابوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ ٹائٹل تھا: God is dead سائنٹفک الحاد نہایت تیزی سے پھیلا۔ یہاں تک کہ وہ علم کے تمام شعبوں پر چھا گیا۔ اس سائنٹفک الحاد نے بظاہر جدید دلائل کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ خدا کا کوئی وجود نہیں، وحی کی کوئی حقیقت نہیں، کوئی کتاب مقدس کتاب نہیں، جنت اور جہنم سب محض فرضی کہانیاں ہیں۔ اس جدید فکر کا آغاز سر آئزک نیوٹن (وفات 1727) سے ہوا۔ پھر ایک کے بعد ایک ایسے سائنس داں پیدا ہوئے جن کی تحقیقات جدید الحاد کو تقویت دیتی رہیں۔ اگرچہ ان سائنس دانوں میں سے کوئی بھی سائنس دان معروف معنوں میں منکر خدا یا منکر مذہب نہیں تھا، مگر ان کی تحقیقات نے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues