Al-Risala · January 2016 · page 37

دردِدِ د جنت

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۶، صفحہ ۳۷

دردِدِ د جنت

ذوق دہلوی (وفات: 1854) ایک اردو شاعر تھے۔ وہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے در باری شاعر تھے۔ بہادر شاہ ظفر نے ان کو خاقانِ ہند کا لقب دیا تھا۔ ذوق دہلوی کا ایک شعر یہ ہے:

در دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں در دل ایک منفی صفت ہے۔ انسان جیسی اعلیٰ مخلوق کا مقصدِ حیات یقینی طور پر کوئی مثبت نشانہ ہونا چاہیے ۔ اس اعتبار سے غور کیجیے تو انسان کا نشانہ صرف جنت ہونا چاہیے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا :

درد جنت کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ہر انسان پیدائشی طور پر ایک اعلیٰ زندگی کی تلاش میں ہوتا ہے۔ مگر وہ اس اعلیٰ زندگی کو پائے بغیر مر جاتا ہے۔ یہ اعلیٰ زندگی، جنت کی زندگی ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر انسان طالب جنت کی حیثیت سے اس دنیا میں آتا ہے، لیکن وہ ساری کوشش کے باوجود جنت کو نہیں پا سکتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مچھلی کو اگر صحرا (desert) میں ڈال دیا جائے تو وہ وہاں تڑپے گی۔ پھر اگر اس کو پانی میں ڈال دیا جائے تو اس کی تڑپ ختم ہو جائے گی۔ مچھلی اپنی فطرت کے اعتبار سے پانی کی طالب تھی۔ پھر جب اس کو پانی مل گیا تو وہ ایسی ہوگئی، جیسے اس کو سب کچھ مل گیا۔ اس دنیا کے خالق نے جس چیز کو مچھلی کے لیے مقدر کیا ہے، وہ مطلوب انسان کے لیے مقدر نہیں۔ یقینا انسان کے لیے بھی اس کا پانی مقدر ہے۔ لیکن وہ مستحق انسان کے لیے موت کے بعد کے عرصۂ حیات میں ہے، نہ کہ موت سے پہلے کے عرصۂ حیات میں۔

لوگوں کو جنت کا علم ہے، لیکن انھیں جنت کا شعوری ادراک نہیں۔ اگر ان کو جنت کا شعوری ادراک ہو تو جنت کے سوا کوئی اور چیز ان کو مطمئن نہ کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2016 All issues

Printed page