Al-Risala · August 2016 · page 29

ایک اجتماعی اصول

الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۲۹

ایک اجتماعی اصول

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے : عن عبادة بن الصامت الانصاری، بایعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة، في منشطنا ومكرهنا،... وأثرة علينا، وأن لا ننازع الأمر أهله ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 7056 )۔ یعنی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی سمع و طاعت پر، پسند پر بھی اور ناپسند پر بھی، اور اس پر کہ دوسروں کو ہمارے اوپر ترجیح دی جائے، اور اس پر کہ ہم صاحب امر سے نزاع نہ کریں۔

اس حدیث میں جس معاملے کا ذکر ہے، اس کا تعلق صرف رسول اور صرف اصحابِ رسول سے نہیں ہے۔ وہ ایک عام اجتماعی اصول ہے جس کی پابندی ہر دور میں ضروری ہے۔ کیوں کہ اس طرح کا معاملہ ہمیشہ اور ہر اجتماع میں پیش آتا ہے۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانے میں انصار اور مہاجرین کے درمیان کوئی فرق نہ تھا۔ مگر جب رسول اللہ کی وفات کے بعد خلافت کا دور آیا تو اس اصول کو اختیار کیا گیا کہ الائمة من قريش (مقدمہ ابن خلدون، بیروت، 1988، صفحہ 242 ) یعنی خلافت کے معاملے میں انصار کے اوپر مہاجرین کو ترجیح دینا۔

یہ جو ہوا، یہ بربنائے ضرورت تھا، نہ کہ بربنائے فضیلت۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں اگر کوئی تحریک کتابت اور لیتھو پرنٹنگ کے زمانے میں شروع ہو تو روایتی لوگ تمام کاموں کو انجام دیں گے۔ لیکن تحریک آگے بڑھ کر جب کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو جائے تو حالات کا تقاضا ہوگا کہ وہ لوگ کام کو سنبھال لیں جو لوگ اپنی تعلیم و تربیت کے اعتبار سے کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو جانتے ہیں۔ ایسا واقعہ ترجیح (preference) کی بنا پر نہیں ہوگا، بلکہ وہ مکمل طور پر ضرورت کی بنا پر ہوگا۔ اس حدیث رسول میں اجتماعی اخلاقیات کا ایک اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ جب ایسا کوئی معاملہ پیش آئے ، جو بظاہر ترجیح (preference) کا دکھائی دیتا ہو تو اس کو دل کی آمادگی کے ساتھ قبول (accept) کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues

Printed page