ماحی کا مطلب
الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۳۱
ماحی کا مطلب
ایک حدیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن بتایا ہے، اس کا ایک جزء یہ ہے : أنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر (صحیح البخاری، حدیث نمبر (3532)۔ یعنی میں مٹانے والا ہوں، اللہ میرے ذریعے کفر کو مٹائے گا۔ اس حدیث میں ماحی کا لفظ آیا ہے۔ ماحی کا لفظی مطلب ہے مٹانے والا۔ یہاں مٹانے کا لفظ کسی فوجی معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تمام تر نظریاتی معنی میں ہے۔ یعنی کفر جس نظریاتی بنیاد (ideological base) پر کھڑا ہے، اس نظریاتی بنیاد کو دلائل کے ذریعے بے وزن بنا دینا۔ کفر کے عقیدے کو اس کی نظریاتی اساس سے محروم کر دینا۔ اس معاملے کا کوئی تعلق جنگ و قتال سے نہیں ہے۔
کفر ایک عقیدہ ہے جو انسان کے دماغ میں بطور ایک فکر کے موجود ہوتا ہے۔ فکر کو جنگ کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ فکر کو صرف جوابی فکر کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی کوششوں سے عرب میں ایک انقلابی عمل (revolutionary process) جاری ہوا، جونہایت موثر طور پر پوری تاریخ میں چلتا رہا۔ جیسا کہ حدیث (البخاری، حدیث نمبر 3062) میں آیا ہے۔ اس انقلابی عمل میں سیکولر لوگوں کی تائید بھی ضرور حاصل ہوگی۔ یہاں تک کہ یہ انقلابی عمل اپنی آخری حد تک پہنچ جائے۔
موجودہ زمانے میں جس چیز کو ماڈرن سویلائزیشن کہا جاتا ہے، وہ اسی انقلابی عمل کی تکمیل ہے۔ اب اکیسویں صدی میں کفر اپنی نظریاتی طاقت کو کھو چکا ہے۔ آج کی دنیا میں انسان کو مکمل معنوں میں مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اب وسائل پر کسی کی اجارہ داری (monopoly) نہیں ہے۔ اب تمام مواقع (opportunities) ہر ایک کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔ کسی کو یہ حق نہیں رہا کہ وہ اپنے نظریے کو جبراً دوسروں کے اوپر نافذ کرے ۔ اب دلیل کی طاقت تمام تر دین حق کو حاصل ہو چکی ہے۔ قدیم زمانے میں ایک اللہ کی عبادت پر بھی روک (العلق : 10-9) تھی۔ آج ایک اللہ کے دین کی اشاعت و تبلیغ کے لیے دنیا کے تمام دروازے پوری طرح کھلے ہوئے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues