Al-Risala · August 2016 · page 37

پیغام کشمیر

الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۳۷

پیغام کشمیر

مسٹر حمید اللہ حمید، اور ان کے ساتھیوں کی کوشش سے جو کشمیر میں انٹرنیشنل پیس سینٹر بنا ہے، اس کے افتتاحی پروگرام کے تحت آپ لوگ یہاں اکٹھا ہوئے ہیں۔ میں آپ لوگوں کے لیے اور آپ کے مشن کے لیے دعا کرتا ہوں۔ اللہ آپ کو کامیابی عطا فرمائے۔

مسلمانوں کا مشن یہ ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ اس اعتبار سے کشمیر کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ کیوں کہ کشمیر کی حیثیت ایک ٹورسٹ اسٹیٹ کی ہے۔ یہاں مسلمانوں کے ساتھ بڑی تعداد میں دوسری قوموں کے لوگ موجود ہیں۔ ہر دن بڑی تعداد میں ٹورسٹ یہاں آتے ہیں۔ یہ سب لوگ آپ کے لیے ایک ذمہ داری ہیں۔ آپ کو یہ کرنا ہے کہ ان سب لوگوں کو اللہ کا پیغام کسی ملاوٹ کے بغیر پہنچائیں۔

آپ میں سے ہر شخص اپنے اندر انسان فرینڈلی بہیویو ( human-friendly behaviour) پیدا کرے۔ انسانوں کی خیر خواہی کے بغیر دعوت کا کام انجام نہیں دیا جا سکتا۔ میں آپ کو دعوت کے لیے ایک ٹو پوائنٹ فارمولا (two-point formula) دیتا ہوں۔ آپ کو یہ کرنا ہے کہ غیر مسلموں کے لیے اسلام کو ان کی ڈسکوری بنائیں، اور مسلمانوں کے لیے اسلام کو ان کی ری ڈسکوری بنائیں ۔ کیوں کہ غیر مسلم اگر اسلام سے بے خبر ہیں تو مسلمان اسلام کے معاملے میں غافل ہو گئے ہیں۔ کشمیر کو سیب کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ سیب کی تاریخ یاد دلاتی ہے کہ کس طرح نیوٹن نے سیب کے گرنے کو لے کر نیچر کا ایک قانون در یا فت کیا۔ سیب کا واقعہ اہل کشمیر کو یاد دلاتا ہے کہ وہ اس سے آگے بڑھ کر یہ کریں کہ وہ سیب کے خالق کو در یا فت کریں، اور اس کے پیغام کو ساری دنیا میں پھیلا دیں۔ کشمیر کے لوگ امیر کبیر شاہ ہمدان کو اپنا بڑا مانتے ہیں۔ امیر کبیر نے کشمیر میں دعوت کے کام کا آغاز کیا تھا۔ اب کشمیریوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ دعوت کے کام کو اس کے اتمام (culmination) تک پہنچائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues

Printed page