Al-Risala · January 2016 · page 5

راس میں ابدُ کا

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۶، صفحہ ۵

قرآن فہمی لیکن حق آدم کو محض قرآن کو سمجھنے کے لیے مفسرین نے مختلف علوم کا ذکر کیا ہے، یہ درست ہے۔ لیکن قرآن کو سمجھنے کا ایک اور ذریعہ ہے، جو بلاشبہ سب سے زیادہ اہم ہے، اور وہ تقویٰ ہے۔ یہ بات قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے: وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ (2:282) یعنی اور اللہ سے ڈرو، اللہ تم کو علم دیتا ہے۔ تقویٰ آدمی کو اللہ سے قریب کرتا ہے۔

تقویٰ آدمی کے در یہ مزاج بناتا ہے کہ وہ ہر چیز کے لیے اللہ سے مدد کا طالب بنے۔ اللہ سے مدد کا طالب ہونا، بیک وقت دعا بھی ہے اور عبادت بھی۔ ایسی دعا سے قرآن فہمی میں بھی مدد ملتی ہے، اور اس کے ذریعے عبادت کا ثواب بھی حاصل ہوتا ہے۔

قرآن فہمی کے لیے اللہ سے مدد کی دعا کرنا، بے حد اہم ہے۔ یہ گویا کتاب کو سمجھنے کے لیے خود کتاب کے مصنف سے کنسلٹ (consult) کرنا ہے۔ یہ صرف قرآن کی صفت ہے کہ اس کا مصنف ہر لمحہ اور ہر مقام پر کنسلٹ کرنے کے لیے موجود ہے۔ اللہ کی طرف سے ہدایت بلاشبہ ہر ان انسان کے لیے آکر بیٹھا ہے الفاظ کی صورت میں نہیں آتی بلکہ ایک انسان پیشین انسان کے لیے آئی ہے لیکن یہ ہدایت لفظوں کی صورت میں نہیں (inspiration) کی صورت میں آتی ہے۔

قرآن سے ثابت ہے کہ اللہ آسمانوں کو الہام (41:12) کرتا۔

آئی، بلکہ وہ انسپریشن سے، اللہ شہد کی مکھیوں کو قرآن سے ثابت ہے لہ اللہ آسمانوں کو الہام (41:12) کرتا ہے، اللہ شہد کی مکھیوں کو الہام (16:68) کرتا ہے، اللہ عام انسانوں کو بھی الہام (8:91) کرتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ کوئی عجیب بات نہیں کہ اللہ اس انسان کی مدد کرے جو اس سے قرآن فہمی کے لیے دعا مانگ رہا ہے۔ امام ابن تیمیہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب قرآن کی کوئی آیت ان کو مشکل نظر آتی تو وہ اللہ سے یہ دعا کرتے: یا معلم ابراهیم علمنی ( إعلام الموقعین عن رب العالمین، لابن قیم، جلد 4، صفحہ 198) یعنی اے ابراہیم کو تعلیم دینے والے میری تعلیم فرما۔ قرآن میں ابراہیم کو تعلیم | دینے کا ذکر معنی سورہ الانبیاء آیت نمبر 51 میں آیا ہے۔

راس میں ابدُ کا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2016 All issues

Printed page