خدا کا عقیدہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۰
خدا کا عقیدہ
ایک تحقیقاتی مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ ہم پیدائشی طور پر خدا میں عقیدہ رکھنے والی مخلوق ہیں ۔ (we are born believers) انسان کی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ایک برتر ہستی کا تصور اس کے اندر فطری طور پر موجود ہے۔ یہ تصور اتنا قوی ہے کہ کوئی بھی تربیت اس کو ختم نہیں کر سکتی ۔ اس حقیقت کو نفسیات کے ایک عالم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : Belief in God is hardwired in our brain یہ تحقیق ٹائمس آن لائن میں چھپی ہے، جس کو نئی دہلی کے اخبار ٹائمس آف انڈیا، نے اپنے شمارہ 8 ستمبر 2009 میں نقل کیا ہے۔ مگر ماہرین کی رپورٹ میں غلط طور پر انسان کی اس خصوصیت کو نظریہ ارتقا سے وابستہ کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ انسان کے ذہن کی یہ پروگرامنگ بذریعہ ارتقا ہوئی ہے، تا کہ اپنے اس عقیدہ کی بنا پر انسان جہدِ للبقاء کے عمل میں زیادہ بہتر مواقع پاسکے : Human beings are programmed by evolution to believe in God, because it gives them a better chance of survival. یہ سرتاسر ایک غیر منطقی بات ہے۔ تحقیق سے جو بات ثابت ہوئی ہے وہ یہ کہ انسان کے اندر پیدائشی طور پر فوق الطبیعی عقیدہ (supernatural belief) موجود ہوتا ہے۔ کوئی مرد یا عورت اس سے خالی نہیں۔ مگر یہ بات سرا سر غیر ثابت شدہ ہے کہ یہ عقیدہ کسی مفروضہ ارتقا (evolution) کے ذریعے انسان کے اندر خود بخود پیدا ہوا ہے۔
موجودہ زمانے میں مختلف شعبوں میں علمی تحقیقات کی گئی ہیں۔ ہر شعبے کے تحقیقاتی نتائج اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ انسان پیدائشی طور پر ایک برتر ہستی کا عقیدہ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ ذہن ہر انسان کو کسی نہ کسی پہلو سے مذہبی بنا دیتا ہے۔ حتیٰ کہ جو لوگ بظاہر ملحد (atheist) سمجھے جاتے ہیں، ان کے ذہن کے کسی نہ کسی گوشے میں بھی یہ تصور موجود ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2016 All issues