Al-Risala · September 2016 · page 15

اسلام کی معرفت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۵

اسلام کی معرفت

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بدأ الإسلام غريبا، وسيعود كما بدأ غريبا، فطوبى للغرباء (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 232۔ [145])۔ یعنی اسلام جب شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا۔ اور دوبارہ وہ اجنبی ہو جائے گا، تو مبارک باد ہے اجنبی لوگوں کے لئے۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ مسلمان اپنے دور زوال میں پہنچ جائیں۔ اس حقیقت کو حدیث میں مختلف طریقہ سے بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً ایک حدیث رسول کے الفاظ یہ: يوشك أن يأتي على الناس زمان لا يبقى من الإسلام إلا اسمه، ولا يبقى من القرآن إلا رسمه، مساجدهم عامرة وهي خراب من الهدى (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر: 1763)۔ یعنی قریب ہے کہ لوگوں پر وہ زمانہ آئے جب کہ اسلام کا صرف نام باقی رہے، اور قرآن کا صرف رسم الخط باقی رہے، اس وقت ان کی مسجدیں بظاہر بھری ہوں گی، لیکن وہ ہدایت سے خالی ہوں گی۔

کسی امت پر عروج کے بعد زوال کا آنا، قانون فطرت کے تحت ہوتا ہے۔ لیکن اس کا ایک مثبت پہلو بھی ہے۔ اس واقعہ میں ایک بڑی رحمت ہے— یہ لوگوں کو یہ موقع دینا ہے کہ وہ دوبارہ دورِ اول والے ایمان کا تجربہ کریں۔ وہ دوبارہ خود دریافت کردہ معرفت (self-discovered realization) پر کھڑے ہوں۔ اس بات کو اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ یہ وقت وہ ہوتا ہے جب کہ ایک طرف یہ کرنا ہے کہ لوگوں کے لیے اسلام کو ان کی دریافت (discovery) بنایا جائے، اور دوسری طرف داخلی اعتبار سے یہ کرنا ہے کہ لوگوں کے لیے اسلام کو دریافتِ نو (re-discovery) بنایا جائے۔ اسلام کی اصل بنیاد معرفت پر ہے۔ معرفت کے بغیر اسلام ایک ظاہری ڈھانچہ بن جائے گا۔ جس کی کوئی قیمت اللہ کے نزدیک نہ ہوگی۔ معرفت سے مراد داخلی اسپرٹ (spirit) ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2016 All issues

Printed page