یثرب کی مثال
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۷
موافق حالات نہیں ملے۔ چناں چہ تیرہ سال بعد آپ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ آپ کی ہجرت سے پانچ سال قبل یثرب (مدینہ) میں وہ جنگ ہوئی جس کو عرب کی تاریخ میں یومِ بعاث کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں مدینہ کے دونوں عرب قبائل، اوس اور خزرج کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔
اس جنگ کے بعد اہلِ مدینہ میں ایک نئی سوچ پیدا ہوئی۔ وہ اپنے لیے ایک متبادل (alternative) کے متلاشی بن گئے۔ انھوں نے سنجیدگی کے ساتھ محسوس کیا کہ ہمارا قبائلی کلچر ہمارے لیے مسئلہ ہے۔ ہمیں ایک اور کلچر کی ضرورت ہے جس کے تحت ہم ایک ایسا فارمولا پالیں، جو ہم کو پرامن طور پر رہنے کے قابل بنائے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو حضرت عائشہ نے ان الفاظ میں بیان کیا: كان يوم بعاث، يوما قدمه الله لرسوله صلی اللہ علیہ وسلم (صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3777)۔ یعنی جنگ بعاث کے بعد اہلِ مدینہ میں ایک نیا ذہن پیدا ہوا۔ وہ پیغمبر اسلام کی دعوت کو اپنے لیے بہترین متبادل سمجھ کر اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ چناں چہ جب 622 ء میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رفیقِ خاص ابو بکر صدیق کے ساتھ مدینہ میں داخل ہوئے تو اہلِ مدینہ نے یہ کہہ کر استقبال کیا: اُدخلا آمنين مطاعين (مسند احمد، حدیث نمبر 12234)۔ یعنی آپ دونوں مدینہ میں داخل ہوں امن کے ساتھ، ہم آپ دونوں کی اطاعت قبول کرتے ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ عملاً ایسا ہی ہوا۔ پر امن اسلام جس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہوئے تھے، وہ اہل مدینہ کے لیے واقعہ ایک متبادل (alternative) بن گیا۔ اس کے بعد اہلِ مدینہ نے وہ عظیم کام انجام دیا، جس کی بنا پر وہ انصار اللہ (اللہ کے مددگار) کہے گئے۔ پاکستان کی مثال پاکستان 1947 میں بنا۔ اس کی منزل اس کے اپنے اعلان کے مطابق یہ تھی : پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ۔ مگر عملاً اس کا نتیجہ برعکس صورت میں نکلا۔ ساٹھ سال سے زیادہ مدت گزرنے کے باوجود لوگوں کی نظر میں پاکستان ایک ناکام ریاست (failed state) ہے۔ پاکستان کے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2016 All issues