Al-Risala · September 2016 · page 32

سنی ہوئی بات کی تحقیق

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۲

سنی ہوئی بات کی تحقیق

ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے : کفی بالمرء کذبا أن یحدث بکل ما سمع (صحیح مسلم، حدیث نمبر 5) یعنی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ جس بات کو سنے، اس کو وہ اسی طرح لوگوں سے بیان کرنے لگے۔ اس حدیثِ رسول میں بات کے غیر مطلوب طریقے کو بیان کیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ بات کا مطلوب طریقہ کیا ہے۔

یہ مطلوب طریقہ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 49 میں یہ اصول اس طرح بیان کیا گیا ہے: یَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْماً بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ (الحجرات: 6) قرآن کی اس آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ بات کو سننے کے بعد اس کو اسی طرح بیان نہ کیا جائے، بلکہ پہلے اس کی تبیین کی جائے۔ تبیین کا مطلب مکمل تحقیق (strict inquiry) ہے۔ بات کو سن کر اسی طرح لوگوں سے بیان کرنا، جھوٹے آدمی کی پہچان ہے، اور بات کو سننے کے بعد، اس کی تحقیق (strict inquiry) کرنا، سچے آدمی کی پہچان ہے۔

انسان کی سب سے بڑی صفت سنجیدگی (sincerity) ہے۔ جس صفت کو مذہبی زبان میں تقویٰ کہا جاتا ہے، اسی صفت کا دوسرا نام سنجیدگی ہے۔ ایک سنجیدہ انسان اس کا تحمّل نہیں کر سکتا کہ وہ کسی بات کو سنے تو وہ بلا تحقیق اس کو بیان کرنے لگے۔ سنجیدہ انسان کے اندر جو مزاج بنتا ہے، وہ مزاج اس طرح بات کرنے میں ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ بات آدمی کی پہچان ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کوئی ایسی بات اپنی زبان سے نہ نکالے جو اس کی پہچان کو بگاڑنے والی ہو۔ اگر کہی ہوئی بات ایک اچھی بات ہو تو اس کو بلا تحقیق دہرانے میں کوئی ہرج نہیں۔ لیکن اگر کہی ہوئی بات ایک ایسی بات ہے جو کسی شخص کی تصویر (image) کو مشتبہ کرنے والی ہے تو ایسی بات کو تحقیق کے بغیر ہرگز بیان نہیں کرنا چاہیے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2016 All issues

Printed page