Al-Risala · September 2016 · page 39

موت کا شعوری ادراک نہیں

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۹

موت کا شعوری ادراک نہیں

لوگوں کو موت کا علم ہے، لیکن انھیں موت کا شعوری ادراک نہیں۔ وہ موت کو جانتے ہیں، لیکن انھوں نے یقین کے درجے میں موت کو دریافت نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ایسی زندگی گزار رہے ہیں جیسے کہ موت ان کے لیے آنے والی نہیں۔ موت کسی انسان کی زندگی کا سب سے زیادہ بھیا نک واقعہ ہے۔ لوگ اگر شعوری طور پر اس حقیقت کو جانیں تو ان کی ساری توجہ موت کی طرف ہو جائے گی۔ موت سے پہلے کی زندگی ان کے لیے صرف ایک ذمے داری بن جائے گی، اور موت کے بعد کا معاملہ ان کے لیے سب سے زیادہ اہم معاملہ بن جائے گا۔

موت کے معاملے میں اس عمومی غفلت کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کے ساتھ ہر لمحہ طرح طرح کے حالات پیش آتے ہیں۔ یہ حالات انسان کو ہر لمحہ اپنی طرف مشغول کیے رہتے ہیں۔ اس کی زندگی ایک ڈسٹریکیٹیڈ (distracted) زندگی بن جاتی ہے۔ اس بنا پر انسان کو یہ موقع نہیں ملتا کہ وہ موت کے بارے میں سوچے ۔ موت کے بارے میں سوچنا صرف اس انسان کے لیے ممکن ہے جو اپنے آپ کو ڈسٹرکشن سے بچائے ۔ چوں کہ انسان ایسا نہیں کرتا اس لیے موت کے بارے میں اس کی غفلت بھی ختم نہیں ہوتی۔ موت کے بارے میں انسان کی غفلت صرف اس وقت ختم ہوتی ہے جب اس کے سامنے موت کا فرشتہ آ کر کھڑا ہو جائے، موت کے فرشتے کے سوا کوئی اور چیز اس کو دکھائی نہ دے۔ انسان کی یہی مشغول زندگی اس کے لیے موت کو صرف ایک دور کی خبر بنا دیتی ہے، موت اس کی زندگی میں یقین کا درجہ حاصل نہیں کرتی ۔ ہر آدمی موت سے اس طرح دوچار ہوتا ہے کہ وہ اس کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ انسان اپنے ذہن کو کچھ دیر کے لیے مشغولیت سے خالی کرے ۔ وہ یکسوئی کے ساتھ موت کو یاد کرے ۔ موت کے بارے میں جو آیتیں یا حدیثیں آئی ہیں، ان کا مطالعہ کرے ۔ اس کے سوا کوئی اور چیز نہیں جو انسان کو موت کے بارے میں حقیقت شناس بنا سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2016 All issues

Printed page