Al-Risala · November 2016 · page 16

بڑھاپے کی عمر

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۶

بڑھاپے کی عمر

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: أو لم نعمر کم ما یتذ کر فیہ من تذ کر (35:37)۔ یعنی کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی کہ جو شخص یاد دہانی حاصل کرنا چاہے، وہ اس میں یاد دہانی حاصل کر سکے۔ اس مفہوم کی متعدد روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ ملاحظہ ہو، ابن حجر کی فتح الباری شرح صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب من بلغ ستین سنہ۔

حدیث میں آیا ہے کہ جس آدمی کو لمبی عمر یا بڑھاپے کی عمر ملے، اس کے پاس اللہ کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ آدمی کے اوپر پہلے بچپن کا دور آتا ہے، اس کے بعد جوانی کا دور آتا ہے، اس کے بعد بڑھاپے کا دور آتا ہے۔ بڑھاپے کا دور موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لیے آخری دور ہے۔ کیوں کہ اس کے بعد جو مرحلہ آتا ہے، وہ موت کا مرحلہ ہے، نہ کہ کوئی اور مرحلہ۔ اس اعتبار سے بڑھاپا گویا کہ موت کی پیشگی اطلاع (prior notice) کی حیثیت رکھتا ہے۔ بڑھاپے میں جسم کے تمام اعضا (organs) کمزور ہو جاتے ہیں، حتی کہ بعض اعضا اپنا کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ موت کا وقت قریب آگیا۔ وہ گویا کہ موت کی جبری یاد دہانی (compulsory reminder) ہیں۔ بڑھاپا آدمی کو قبر کے کنارے کھڑا کر دیتا ہے۔

اگر آدمی کا ذہن بیدار ہو تو بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر وہ سوچنے لگے گا کہ اب بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے، جب کہ میری موت واقع ہو اور میں اللہ کے سامنے حساب کتاب کے لیے حاضر کر دیا جاؤں۔ اس طرح بڑھاپے کے تجربات آدمی کو جھنجھوڑتے ہیں، وہ اس کو آخرت کی یاد دہانی کراتے ہیں۔ بڑھاپا آدمی کو بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں تمھارا سفر اب ختم ہو چکا۔ اب تمھیں لازماً اگلے دور حیات میں داخل ہونا ہے اور حشر کی خدائی عدالت کا سامنا کرنا ہے۔ بلا شبہ وہ انسان سب سے زیادہ بد بخت انسان ہے جس کو بڑھاپے کا زمانہ ملا، لیکن وہ اس سے یاد دہانی حاصل نہ کر سکا، وہ بدستور غفلت میں رہا، یہاں تک کہ وہ اسی حال میں مر گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues

Printed page