Al-Risala · November 2016 · page 19

موت

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۹

موت

موت کیا ہے، موت معلوم دنیا سے نامعلوم دنیا کی طرف چھلانگ ہے۔ موت ’اپنی دنیا‘ سے نکل کر ’دوسرے کی دنیا‘ میں جانا ہے۔ کیسا چونکا دینے والا ہے یہ واقعہ۔ مگر انسان کی یہ غفلت کیسی عجیب ہے کہ وہ اپنے چاروں طرف لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے، پھر بھی وہ نہیں چونکتا۔ حالاں کہ ہر مرنے والا زبان حال سے دوسروں کو بتا رہا ہے کہ جو کچھ مجھ پر گزر رہی تمھارے اوپر بھی گزرنے والا ہے۔ وہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ کامل بے بسی کے ساتھ اپنے آپ کو فرشتوں کے حوالہ کردے۔ موت ہر آدمی کو اسی آنے والے دن کی یاد دلاتا ہے۔ موت کا حملہ سراسر یک طرفہ حملہ ہے۔ یہ طاقت اور بے طاقتی کا مقابلہ ہے۔ اس میں انسان کے بس میں اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ وہ کامل عجز کے ساتھ فریق ثانی کے فیصلہ پر راضی ہو جائے۔ وہ یک طرفہ طور پر شکست کو قبول کرلے۔ موت انسانی زندگی کے دومرحلوں کے درمیان حد فاصل ہے۔ موت آدمی کو موجودہ دنیا سے اگلی دنیا کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ اختیار سے بے اختیاری کی طرف سفر ہے۔ یہ امتحان کے بعد اس کا انجام پانے کے دور میں داخل ہونا ہے۔ موت سے پہلے کی زندگی میں آدمی صداقت کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ معقولیت کے آگے جھکنے پر راضی نہیں ہوتا۔ موت اس لیے آتی ہے کہ اس کو بے یارومددگار کرکے حق کے آگے جھکنے پر مجبور کردے۔ جس صداقت کو اس نے باعزت طور پر قبول نہیں کیا تھا اس کو وہ بے عزت ہو کر قبول کرے۔ جس حق کے آگے، وہ اپنے ارادہ سے نہیں جھکا تھا۔ اس حق کے آگے مجبورانہ طور پر جھکے اور اس کی تردید کے لیے کچھ نہ کرسکے۔ انسان آج حق کی تائید میں چند الفاظ بولنا گوارا نہیں کرتا، جب موت آئے گی تو وہ چاہے گا کہ ڈکشنری کے سارے الفاظ حق کی موافقت میں استعمال کر ڈالے، مگر اس وقت کوئی نہ ہوگا جو اس کے الفاظ کو سنے۔ انسان آج ڈھٹائی کرتا ہے، موت جب اس کو پچھاڑے گی تو وہ سراپا عجزونیاز بن جائے گا۔ مگر اس وقت کوئی نہ ہوگا جو اس کے عجز ونیاز کی قدر دانی کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues

Printed page