کوئی شخص موت کو جیت نہیں سکتا
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۹
تھی، مگر قوم اُن کے آنکھ بند کرنے کے بعد انتشار یا خانہ جنگی کا شکار ہو سکتی تھی۔ اسے بات کا بخوبی علم تھا، جیسا کہ ہمارے جدید زمانہ کے لیڈروں کو علم ہے۔ لوئی کی عمر 58 سال کی تھی جب اُس پر فالج کا حملہ ہوا تھا۔ اُسے تب اس امر کا علم ہو گیا کہ وہ بہت دیر تک زندہ نہ رہ سکے گا۔ کیوں کہ اُس کے پر یوار میں کوئی بادشاہ اپنا 60 واں جنم دن نہ منا سکا تھا۔
لوئی کسی محفوظ قلعے میں امن و شانتی سے رہنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اُس نے ایک محل میں رہنا شروع کیا جہاں بہت کم لوگوں کو داخلہ کی اجازت تھی۔ اس محل کی طرف جانے والی سڑکوں پر جنگلے لگا دیئے گئے تھے۔ اور محل کے چاروں طرف خندق کھوددی گئی تھی۔ چالیس تیر انداز پتھروں کی دیواروں پر بیٹھے ڈیوٹی دیتے رہتے تھے۔ انھیں حکم تھا کہ اگر کوئی اجازت کے بغیر محل کے نزدیک آنے کی جرأت کرے تو اسے قتل کر دیا جائے۔
علاوہ بریں 400 گھوڑ سوار دن رات علاقہ میں گشت کرتے رہتے تھے۔ محل کے اندر لوئی بڑی عیش پرستانہ زندگی گزار رہا تھا۔ اُس کے کمرہ میں خوبصورت تصاویر آویزاں تھیں۔ ماہر راگی اپنا راگ سنا کر اُسے خوش رکھتے۔ بڑے بڑے پنجروں میں بند کتے اور پرندے جو وہاں رکھے ہوئے تھے اُسے بہت پسند تھے۔ زیادہ تر وقت وہ اپنے جسم کو سکوڑے ہوئے قابل رحم حالت میں آرام کرسی پر ہی گزارتا۔ اس کے سامنے ایک خوبصورت باغ تھا جسے وہ اپنے محل کی دوسری منزل سے دیکھتا رہتا۔
اگر چہ وہ جسمانی طور پر کمزور ہو چکا تھا۔ اپنی قوم کی زندگی اور موت اُس کے اختیار میں تھی۔ اس پر بھی وہ فکر مند تھا کہ اپنی رعایا پر یہ امر کیسے واضح کرے کہ وہ سب سے بڑا حکمراں ہے۔ اُس کو سب سے بڑا خدشہ یہ تھا کہ اختیارات کا خواہش مند کوئی امیر منصب دار اسے ہٹا کر خود اقتدار نہ سنبھال لے اور اُسے اپنے آخری ایام ایک دیوانہ بوڑھے کی مانند گزارنے نہ پڑیں۔ اپنے بڑھاپے میں لوئی ہر ایک پر شبہ کرنے لگا تھا۔ اُسے اپنے پرانے ملازموں پر شک تھا۔ چنانچہ انھیں ہٹا کر اُن کی جگہ اُس نے غیر ملکی بھرتی کر لئے تھے۔ اور پھر ان کو اور اُن افسروں کو
‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues