Al-Risala · November 2016 · page 36

خوش نما فریب

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۶

خوش نما فریب

ہر زبان میں مثلیں (sayings) اور کہاوتیں ہوتی ہیں۔ یہ کہاوتیں انسانی زندگی کا تجربہ ہوتی ہیں۔ ہر مثل لمبے انسانی تجربے کے بعد بنتی ہے۔ اسی قسم کی ایک انگریزی مثل یہ ہے ۔ یہ اتنا زیادہ اچھا ہے کہ وہ سچ نہیں ہوسکتا:

It is too good to be true.

یہ ایک حقیقت ہے کہ سچ کے مقابلے میں، جھوٹ ہمیشہ خوش نما ہوتا ہے۔ حقیقی نفع کے مقابلے میں، فرضی نفع ہمیشہ زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ مخلصانہ بات کے مقابلے میں، منافقانہ بات ہمیشہ خوب صورت ہوتی ہے۔ نصیحت کے مقابلے میں، خوش کرنے والی بات سننے میں زیادہ اچھی معلوم ہوتی ہے۔ حقیقی تاریخ کے مقابلے میں، فرضی قصہ کہانیاں زیادہ دل چسپ ہوتی ہیں۔ حقیقت پسندانہ کلام کے مقابلے میں، رومانوی کلام ہمیشہ زیادہ دل کش نظر آتا ہے۔ کارآمد بات کے مقابلے میں، بے فائدہ بات آدمی کو زیادہ پرکشش معلوم ہوتی ہے۔

یہی وہ چیز ہے جو آدمی کو دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ ایسی حالت میں آدمی ہر وقت امتحان کی حالت میں ہے۔ ہر وقت اس کو چوکس بن کر رہنا ہے، تا کہ ایسا نہ ہو کہ وہ جھوٹ کے فریب میں پھنس کر، سچائی سے دور ہو جائے۔ وہ ہوائی باتوں سے مسحور ہو کر، حقیقت پسندی کے راستے سے ہٹ جائے ۔ وہ منافقانہ باتوں کے فریب میں آ کر، مخلصانہ بات کو قبول نہ کر سکے۔ اس دنیا میں ہر وقت یہ خطرہ ہے کہ آدمی سونے کے ملمع کو سونا سمجھ کر لے لے اور پھر وہ سخت نقصان میں پھنس جائے۔ وہ جھوٹے الفاظ کے فریب میں آ کر ایسی چھلانگ لگا دے، جو اس کو ایسے گڑھے میں گرادے، جس سے نکلنے کی کوئی صورت اس کے لیے نہ ہو۔

اس دنیا میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی خوش نما باتوں سے متاثر نہ ہو، وہ ٹھوس حقائق کی روشنی میں اپنی رائے بنائے۔ دانش مند صرف وہ شخص ہے جو اس معیار پر پورا اترے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues

Printed page