موت کا المیہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۸
موت کا المیہ
موت ہر عورت اور مرد پر لازماً آتی ہے۔ موت کا سب سے زیادہ المناک پہلو یہ ہے کہ موت کے بعد دوبارہ موجودہ دنیا میں واپسی ممکن نہیں۔ موت کے بعد انسان کو ابدی طور پر ایک نئی دنیا میں رہنا ہے۔ موت کے بعد صرف بھگتنا ہے، عمل کرنا نہیں ہے۔
انسان ایک بے حد حساس (sensitive) مخلوق ہے۔ انسان کسی سختی کو برداشت نہیں کر پاتا، خواہ وہ کتنی چھوٹی کیوں نہ ہو۔ ہر عورت اور ہر مرد کو سب سے زیادہ یہ سوچنا چاہیے کہ موت کے بعد اگر اس کو سخت حالات میں رہنا پڑا تو وہ کیسے ان کو برداشت کرے گا۔ اگر انسان یہ سوچے تو اس کی زندگی میں ایک انقلاب پیدا ہو جائے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو وہ کہیں گے : الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی أَذْهَبَ عَنَّا الحَزَنَ (35:34) یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کیا۔ تکلیف (pain) کی زندگی انسان کے لیے سب سے زیادہ ناقابلِ برداشت زندگی ہے۔ اور تکلیف سے پاک زندگی انسان کا سب سے بڑا مطلوب ہے۔ انسان اگر اس پہلو کو سوچے تو موت اس کا سب سے بڑا کنسرن بن جائے۔ وہ موت کے بارے میں اس سے زیادہ سوچے گا، جتنا وہ زندگی کے بارے میں سوچتا ہے۔
موت کا تصور آدمی کے لیے ماسٹر اسٹر وک (masterstroke) کی مانند ہے۔ ماسٹر اسٹر وک کیرم بورڈ کی تمام گوٹوں کو اپنی جگہ سے ہلا دیتا ہے۔ اسی طرح اگر آدمی کے اندر موت کا تصور زندہ ہو تو اس کے دماغ کے تمام گوشے ہل جائیں۔ اس کا سوچنا اور اس کا چاہنا، یک سر بدل جائے۔ اس کی زندگی میں ایک ایسا انقلاب آئے گا جو اس کو ایک نیا انسان بنا دے گا۔ موت سے غفلت آدمی کو ایک بے خبر انسان بناتی ہے۔ اس کے برعکس، موت کی یاد آدمی کو آخری حد تک باخبر اور باہوش انسان بنا دیتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues