Al-Risala · December 2016 · page 7

فیصلہ کی بنیاد

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۷

تاہم آیتوں کا مزید مطالعہ بتاتا ہے کہ خالق کی عنایت سے انسان کے لیے امکان ختم نہیں ہوا، وہ اس کے لیے بدستور باقی ہے۔ انسان کے لیے یہ امکان باقی ہے کہ اگر اس نے پہلا موقع (first chance) کھو دیا ہے تو اپنی زندگی کی نئی منصوبہ بندی (re-planning) کر کے، وہ دوسرا موقع (second chance) کو اويل (avail) کر سکتا ہے۔ یہ مزید موقع انسان کے لیے اس وقت تک باقی رہے گا جب تک وہ اس دنیا میں زندہ موجود ہو۔

نیا منصوبہ کیا ہے۔ نیا منصوبہ اپنی غلطی کے اعتراف سے شروع ہوتا ہے۔ انسان اگر اپنے ذہن کو بیدار کرے، وہ یہ دریافت کرے کہ اس سے کہاں غلطی ہوئی ہے، کس موڑ پر اس نے پہلے موقع کو کھودیا ہے۔ اس دریافت کے بعد یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ انسان حالات کا دوبارہ اندازہ کرے، وہ اپنی تخلیقی صلاحیت کو از سرِ نو دریافت کرے۔ اس کے بعد وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگی کا نیا نقشہ بنائے گا۔

جو مرد یا عورت ایسا کریں، ان کے لیے فطرت کا قانون پوری طرح معاون بن جائے گا۔ ایسے عورت اور مرد دیکھیں گے کہ بہت جلد انھوں نے اپنی چھوٹی ہوئی بس (Missed Bus) کو پالیا ہے۔ جو دنیا پہلے بظاہر ان کی دشمن نظر آتی تھی، وہ اب پوری طرح ان کی دوست بن گئی ہے۔ زندگی میں نئی منصوبہ بندی (re-planning) ہمیشہ ممکن ہوتی ہے۔ یہاں ہمیشہ یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی اپنی زندگی کا نیا سفر شروع کرے، اور بہت جلد وہ اپنی مطلوب منزل تک پہنچ جائے۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ اس معاملے میں پوری طرح سنجیدہ (sincere) ہو۔ وہ شکایت کی نفسیات سے پوری طرح پاک ہو، وہ اپنی ماضی کی غلطی کو دوبارہ نہ دہرائے، وہ تواضع (modesty) کا طریقہ اختیار کرے، نہ کہ کبر (arrogance) کا طریقہ ۔ وہ اپنی غلطی کو ماننے کے لیے ہر وقت تیار رہے۔ جو عورت یا مرد اس کردار کا ثبوت دیں، ان کو کوئی چیز کامیابی کی منزل تک پہنچنے سے روکنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues

Printed page