Al-Risala · December 2016 · page 15

دعوتی منصوبہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۵

نہیں ہے کہ اصنام پرستی کو چھوڑ دے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کعبہ میں اصنام کی موجودگی کو وقتی طور پر نظر انداز کرو۔ تا کہ دعوت کا مشن کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ یہ گویا دعوتی طریقہ کار کا ایک کامیاب فارمولا تھا۔ یعنی بتوں کی موجودگی کے مسئلے کو نظر انداز کرو، اور ان بتوں کی وجہ سے کعبہ کے پاس جو مجمع اکٹھا ہوتا ہے، اس کو اپنے مشن کے لیے بطور آڈین٘س (audience) استعمال کرو۔ قرآن فہمی کے لیے سببِ نزول نہایت اہم ہے۔ ایک سبب نزول وہ ہے جو لفظی طور پر کسی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ دوسرا سبب نزول وہ ہے جو تاریخی حالات کے مطالعے سے دریافت ہوتا ہے۔ تاریخی حالات کے اعتبار سے اس آیت کا سببِ نزول متعین کیا جائے تو وہ پیغمبر اسلام کے عمل سے مستنبط ہوگا۔ وہ یہ کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال تک مکہ میں رہے۔ اس زمانے میں آپ یہ کرتے تھے کہ کعبہ کے پاس جمع ہونے والے لوگوں کے پاس جاتے اور کعبہ میں اصنام کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے، ان کو قرآن کی آیتیں سنا کر ان کے سامنے اسلام پیش کرتے۔ سیرت کی کتابوں میں اس واقعے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: عرض عليهم الإسلام، وتلا عليهم القرآن (سیرت ابن ہشام، 1/428)۔

پیغمبر اسلام کا یہ طریقہ ایک دعوتی اصول کی انتہائی مثال ہے۔ یعنی مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے مواقع کو بھر پور طور پر استعمال کرنا۔ دعوت کا موضوع ہمیشہ اور ہر زمانے میں ایک رہے گا۔ لیکن مسائل کی صورتیں بدلتی رہیں گی۔ قدیم زمانے میں اگر یہ مسئلہ تھا کہ کعبہ کی عمارت کے اندر بت رکھ دیے گیے تھے تو موجودہ زمانے میں حالات کے اعتبار سے مسائل مختلف ہوسکتے ہیں۔ مثلا کسی دنیوی یا سیاسی مقصد کے لیے لوگوں کا ایک مقام پر اکٹھا ہونا۔ ایسے موقعہ پر اگر کوئی غیر دینی فعل کیا جا رہا ہے تو داعی کو چاہیے کہ وہ اس کو نظر انداز کرے، اور وہاں پہنچ کر لوگوں کو حق کا پیغام دے۔ خواہ زبانی طور پر یا لٹریچر کی تقسیم کے ذریعے ۔ داعی کی توجہ ہمیشہ دعوت کے مواقع (opportunities) پر ہونی چاہیے، نہ کہ دعوت کے مسائل (problems) پر۔ یہ حکمتِ دعوت ہے۔ اس حکمت کو اختیار کیے بغیر دعوت کا کام موثر طور پر نہیں ہو سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues

Printed page