قومی مزاج ، اسلامی مزاج
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۰
دور اول میں عظیم کامیابی کی صورت میں نکلا۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے اس سنت رسول کو چھوڑ دیا۔ انھوں نے مثبت منصوبہ بندی کے بجائے ردعمل کے تحت منفی سرگرمیوں کا طریقہ اختیار کر لیا۔ آج تمام دنیا کے مسلمان اسی قسم کی سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔ مسلمانوں کے تقریباً تمام مقررین و محررین موجودہ زمانے میں یہی ایک کام کر رہے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک مہلک بدعت ہے۔ مسلمان جب تک اس مہلک بدعت کو نہ چھوڑیں، انھیں ہر گز کوئی کامیابی ملنے والی نہیں۔ خواہ ان کی مفروضہ قربانیوں کی مقدار کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو جائے۔
ردعمل کے مزاج کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی کی سوچ، منفی سوچ (negative thinking) بن جاتی ہے۔ انسان نفرت اور شکایت میں جینے لگتا ہے۔ اس قسم کی سوچ کا ہلاکت خیز نتیجہ یہ ہے کہ انسان کے اندر فکری ارتقا (intellectual development) کا عمل رک جاتا ہے۔ اس کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ درست بنیادوں پر سوچے، اور درست بنیادوں پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔
مسلم امت اگر یہ چاہتی ہے کہ اس کی موجودہ صورت حال میں تبدیلی آئے تو وہ صرف ایک تدبیر سے آسکتی ہے۔ وہ یہ کہ مسلمان اپنی تمام موجودہ منفی سرگرمیوں کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیں، اور انسان کے نصح (خیر خواہی) کے جذبے کے تحت مثبت بنیادوں پر دعوت الی اللہ کا پر امن کام کریں۔ اس کے سوا کوئی اور چیز مسلمانوں کے لیے فلاح اور نجات کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ اس دنیا میں کوئی بھی کامیابی صرف دانش مندانہ منصوبہ بندی (wise planning) کے ذریعہ ہو سکتی ہے۔ مفروضہ مظالم کے خلاف فریاد کا کوئی نتیجہ اس دنیا میں نکلنے والا نہیں۔ یہ دنیا فطرت کے محکم قوانین پر چل رہی ہے۔ فطرت کے اس قانون کو جاننا اور اس کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنانا ہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز ہے۔ قرآن کی زبان میں مسلمانوں کے لیے یہ تو بہ جمیع (النور : 31) کا وقت ہے، یعنی یوٹرن (U-turn) لینے کا وقت۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues