طلاق کا مسئلہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۶
شخص نے تین طلاق کا لفظ بول دیا تو اس کو غصہ پر محمول کر کے رجوع کا موقعہ دیا جاتا تھا۔ حضرت عمر کی خلافة کے زمانے میں ایسا ہوا کہ اس قسم کے واقعات زیادہ ہونے لگے۔ لوگ اپنی بیوی کے خلاف اظہارِ غضب کے طور پر کہنے لگے کہ تم کو طلاق، تم کو طلاق، تم کو طلاق۔ یعنی ایک مجلس میں تین طلاق دینے کی تعداد بڑھ گئی۔
حضرت عمر نے یہ حالت دیکھ کر ایک نیا فیصلہ فرمایا۔ انھوں نے ایک مجلس کی تین طلاق کو تین طلاق قرار دے کر فریقین کے درمیان علاحدگی کرا دی۔ یہ واقعہ حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں نقل ہوا ہے: عن ابن عباس، قال كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأبي بكر، وسنتين من خلافت عمر، طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر بن الخطاب : إن الناس قد استعجلوا في أمر قد كانت لهم فيه أناة، فلو أمضيناه عليهم، فأمضاه عليهم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1472)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر اور دور خلافت عمر کے ابتدائی دو سال تک تین طلاق ایک ہی شمار کی جاتی تھی۔ عمر بن خطاب نے کہا کہ لوگوں کو جس امر میں مہلت دی گئی تھی اس میں انھوں نے جلدی شروع کردی ہے پس اگر ہم تین ہی نافذ کر دیں تو مناسب ہوگا۔ چناں چہ انہوں نے تین طلاق ہی واقع ہو جانے کا حکم دے دیا۔ لیکن اسی کے ساتھ وہ ایسا کرنے والے مردوں کو کوڑے مار کر سخت سزا دیا کرتے تھے (إذا أتي برجل طلق امرأته ثلاثا أوجع ظهره [سنن سعید بن منصور، حدیث نمبر 1074])۔ حضرت عمر کا یہ فیصلہ شریعت میں تبدیلی کے ہم معنی نہ تھا۔ بلکہ اس کی حیثیت ایک انتظامی حکم (executive order) کی تھی۔ اس قسم کا انتظامی حکم عمومی حکم نہیں ہوتا، وہ صرف وقتی حالات میں استثنائی طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔
اب جہاں تک طلاق کے معاملے میں شرعی حکم کا تعلق ہے، وہ ہمیشہ کے لیے وہی رہے گا، جو قرآن میں مذکور ہے۔ البتہ اگر کوئی حاکم وقتی حالات کی بنا پر دوبارہ حضرت عمر کے طریقے کو اختیار کرنا چاہے تو وہ عارضی طور پر اس کو اختیار کر سکتا ہے۔ مگر غیر حاکم کو اس معاملے میں کسی تبدیلی کی اجازت نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues