روحانی سماج
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۱۱
(process) کے اس عمل (self development) کرے ۔ سیلف ڈیویلپمنٹ (develop) میں انسان کو معلوماتی تائید کی ضرورت تھی۔ مادی تہذیب نے فطرت (nature) کی حقیقتوں کو دریافت کرکے انسان کو یہی تائید (support) فراہم کی ہے۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے اندر جو منتشرانہ سرگرمیاں جاری ہیں، وہ غیر متعلق سرگرمیاں ہیں۔ یہ گویا درمیانی جدوجہد کے دور کو تکمیل کے دور میں دوبارہ غیر ضروری طور پر زندہ کرنا ہے۔ موجودہ دور سے پہلے دو فریق ہوا کرتے تھے، دوست اور دشمن۔ لیکن اب یہ ثنائیت (dichotomy) بدل چکی ہے۔ اب دنیا میں صرف دوست اور موید (friend and supporter) موجود ہیں۔ اب اہل اسلام کا کام تکمیل کے مثبت مواقع کو آویل (avail) کرنا ہے، نہ کہ دور جدوجہد کے واقعات کا غیر ضروری طور پر اعادہ (repeat) کرنا، جس سے مسائل میں اضافہ کرنے کے سوا کچھ اور ملنے والا نہیں۔
روحانی سماج
تخلیق کا اصل مقصود انسان ہے۔ تخلیقی عمل کے دوران جو چیزیں وجود میں آئیں، وہ سب صرف اس لیے تھیں کہ انسان اپنے سفر معرفت کو کامیابی کے ساتھ طے کر سکے۔ اس پورے عمل (process) کے ذریعہ جو آخری چیز مطلوب ہے، وہ یہ کہ ایک اعلیٰ درجے کا روحانی سماج (spiritual society) بنے، جو اُس معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہو جس کو جنت (Paradise) کہا گیا ہے۔ جنت ایک پرفیکٹ دنیا (perfect world) ہے، جو ان انسانوں کی آبادکاری کے لیے بنائی گئی ہے جو اپنے آپ کو اس کا اہل (competent) ثابت کریں۔ دنیا میں انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔ وہ آزاد ہے کہ اپنے آپ کو جیسا چاہے، ویسا بنائے۔ اس لیے موجودہ دنیا میں اعلیٰ معیار کا روحانی سماج نہیں بن سکتا۔ یہاں صرف اعلیٰ معیار کے روحانی افراد بن سکتے ہیں۔ تخلیقی منصوبے کے مطابق جو بات ہونے والی ہے، وہ یہ کہ پوری انسانی تاریخ کے خاتمے پر اعلیٰ درجے کے روحانی افراد کو منتخب کرکے انھیں ابدی جنت میں بسنے کا موقع دیا
‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues