Al-Risala · March 2017 · page 10

مبارک لوگ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۷، صفحہ ۱۰

پر روشنی کا دروازہ کھلا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنا محاسبہ (introspection) کرکے اپنی بھر پورڈی کنڈیشننگ کرتا ہے، اس کے بعد وہ اپنے آپ کو آلودگی سے پاک کرکے وہ ذہن بناتا ہے جس کو شریعت میں مز کی شخصیت کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ قرآن کو پڑھے اور اس کو گہرائی کے ساتھ اپنا سکے۔

مبارک لوگ

ایک مشہور حدیث ہے: بدأ الإسلام غريبا، وسيعود كما بدأ غریبا، فطوبى للغرباء (صحیح مسلم، حدیث نمبر 145)۔ یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا، اور دوبارہ وہ اجنبی ہو جائے گا، جیسا کہ وہ شروع میں تھا۔ پس مبارک ہیں وہ لوگ جو اجنبی ہو جائیں۔ غریب کا مطلب اجنبی (stranger) ہے۔ اجنبیت کا لفظ ایک تقابلی لفظ ہے۔ یعنی کسی کے مقابلے میں اجنبی ہو جانا۔ ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں پیغمبر اسلام قدیم عرب میں آئے۔ اس وقت وہاں بنواسماعیل آباد تھے۔ ابتدا وہ لوگ دین ابراہیم پر قائم تھے، مگر ان کی بعد کی نسلوں پر زوال آیا۔ وہ لوگ اب بھی دین ابراہیم کا نام لیتے تھے، لیکن وہ عملاً اصل ابراہیمی دین پر نہ تھے۔ بعد کے زمانے میں حقیقی ابراہیمی دین ان کے درمیان اجنبی ہو چکا تھا۔ وہ دین ابراہیم کے ایک خود ساختہ ورژن (version) کو ابراہیم کا دین سمجھنے لگے تھے۔ اس اجنبیت کی بنا پر وہ پیغمبر اسلام کے مخالف بن گیے۔ حالاں کہ پیغمبر اسلام، ابراہیم علیہ السلام کے اسی دین کو زندہ کر رہے تھے، جس کو رسول اللہ کے معاصر عرب اپنے قومی فخر کے طور پر لیے ہوئے تھے۔

مذکورہ حدیث کے مطابق، یہی معاملہ بعد کے زمانے میں دین اسلام کے ساتھ پیش آئے گا۔ یعنی قرآن وسنت والا دین زوال یافتہ مسلمانوں کے درمیان ایک اجنبی دین بن جائے گا۔ بظاہر وہ دین محمدی کا نام لیں گے، اور اس پر فخر کریں گے۔ لیکن حقیقی اعتبار سے وہ دین محمدی سے اتنا دور ہو چکے ہوں گے کہ اصل دین محمدی ان کے لیے ایک اجنبی دین کی حیثیت اختیار کر لے گا۔ دین ابراہیمی اور دین محمدی دونوں اپنی اصل کے اعتبار سے خالص توحید کے مذاہب تھے۔ لیکن بعد کے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2017 All issues

Printed page