Al-Risala · March 2017 · page 20

اسپرچول آؤٹ سورسنگ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۷، صفحہ ۲۰

اسپرچول آؤٹ سورسنگ

آؤٹ سورسنگ ایک جدید تصور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک کمپنی دوسرے کمپنی کے وسائل کو اپنے حق میں استعمال کرے:

Outsourcing means going “out” to find the “source” of what you need. آؤٹ سورسنگ دراصل استثمار (utilization) کی جدید صورت ہے۔ اس لفظ کا باقاعدہ استعمال 1989 میں مغرب میں صنعت و تجارت کے میدان میں شروع ہوا۔ قدیم زمانے میں استثمار کی ایک ہی صورت تھی، اور وہ تھی فوجی استثمار یا سیاسی استثمار۔ یعنی پہلے طاقت کے زور پر دوسروں کے او پر قبضہ کرنا، اور پھر دوسروں کے وسائل کو اپنے حق میں استعمال کرنا۔ لیکن موجودہ زمانے میں جدید وسائل کی دریافت نے آؤٹ سورسنگ کے تصور کو بدل دیا ہے۔ اب تنظیم (organization) نے یہ ممکن بنا دیا ہے کہ فوجی یا سیاسی طاقت کا استعمال کیے بغیر پرامن منصوبہ بندی کے ذریعہ آؤٹ سورسنگ کا فائدہ بڑے پیمانے پر حاصل کیا جائے۔ موجودہ زمانے میں بڑی بڑی کمپنیاں اس طریقے کو وسیع پیمانے پر استعمال کر رہی ہیں۔ لیکن ان کی آؤٹ سورسنگ مادی انٹرسٹ کے لیے ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ آؤٹ سورسنگ کا ایک اور میدان ہے، اور وہ ہے اسپرچول آؤٹ سورسنگ۔ یعنی دوسروں کے قائم کردہ وسائل کو اپنے روحانی اور ذہنی ارتقا کے لیے استعمال کرنا۔

مثلاً آپ ہوائی جہاز کو فضا میں اڑتا ہوا دیکھتے ہیں تو آپ کو یہ آیت یاد آجاتی ہے: وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (45:13)۔ یعنی اور اس نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا، سب کو اپنی طرف سے۔ آپ اس واقعہ کو خالق کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ اور پھر ہوائی جہاز کے ذریعہ آپ تسخیر کی ایک مثال دریافت کرتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ رب العالمین کی قدرت کیسی عجیب ہے اس نے مادہ (matter) کو حکم دیا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2017 All issues

Printed page