Al-Risala · January 2017 · page 13

روحانی سماج

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۱۳

(understandable) بن گئیں۔ مثلاً غیب پر ایمان قدیم زمانے میں ایک عقیدہ کی بات تھی۔ موجودہ زمانے میں کوانٹم فزکس (quantum physics) کی دریافت کے بعد یہ صرف نظری بات نہ رہی، بلکہ پراببیلیٹی (probability) کے درجے میں تقریباً قابل یقین حقیقت بن گئی۔ پراببیلیٹی جدید سائنس کا ایک اہم اصول ہے۔ کہا جاتا ہے:

probabilty is less than certainty but it is more than perhaps موجودہ زمانے میں جن چیزوں کو سائنسی حقیقت (scientific fact) کہا جاتا ہے، ان سب کا معاملہ یہی ہے۔ ان میں سے ہر ایک پراببیلیٹی کے درجے میں مسلمہ حقیقت بنی ہیں، نہ کہ مشاہدہ کے درجے میں۔ یہی معاملہ مذہبی عقائد یا تصورات کا ہے۔ اس زمانے میں مذہبی تصورات اسی تسلیم شدہ درجے میں ثابت شدہ بن چکے ہیں، جس درجے میں مسلمہ سائنسی حقائق۔ فائنل رول تخلیقی نقشہ کے مطابق، تاریخ انسانی میں ایک فائنل رول مقدر ہے۔ یعنی آخرت کے ظہور سے پہلے حقیقت کا ایک آخری اعلان۔ یہ آخری اعلان خدا کی توفیق سے ایک ایسا گروہ انجام دے گا، جو پورے تاریخی پراسس کی آخری پیداوار ہو، جو تخلیقی ارتقا کے آخر میں وجود میں آیا ہو، جس پر پوری تاریخ منتہی ہوئی ہو، جو ماضی اور حال کے تمام تاریخی ڈیولپمنٹ (historical development) کا مثبت شعور رکھتا ہو۔

یہ گروہ وہ ہوگا جو کتاب تاریخ کے آخری پیراگراف کو لکھے گا۔ جو اپنے آفاقی شعور کی بنا پر اس قابل ہوگا کہ انسانیت کے لیے حجت بن جائے۔ جو تمام مواقع (opportunities) کو مثبت طور پر استعمال کرے۔ اور پھر خدائی سچائی کا وہ عالمی اعلان کرے، جس کے بعد کوئی انسان بے خبری کا عذر پیش نہ کر سکے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیث میں عالمی ادخَالَ کلمہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر، ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)

‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues

Printed page