راہِ عمل
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۷، صفحہ ۲۴
صبر کی اہمیت
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ (3:146) ۔ یعنی اور کتنے نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت سے خدا پرستوں نے جنگ کی۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں ، ان سے نہ وہ پست ہمت ہوئے ، نہ انھوں نے کمزوری دکھائی۔ اور نہ وہ دبے۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
قرآن کی اس آیت میں سبیل اللہ کے حوالے سے جو بات کہی گئی ہے۔ اس کا تعلق مخصوص طور پر حالت قتال سے نہیں ہے۔ بلکہ یہ حکم عام ہے۔ یعنی دینی زندگی اختیار کرنے کے بعد دنیا میں جو مصائب و شدائد پیدا ہوتے ہیں، اس پر انھوں نے استقامت کا طریقِ اختیار کیا۔ صبر کا لفظی مطلب برداشت کرنا ہے۔ دانش مند انسان کے لیے یہ برداشت برائے برداشت نہیں ہوتی ، بلکہ وہ ایک اسٹریٹیجی (strategy) ہوتی ہے۔ یعنی وقتی صورت حال کو نظر اند کرتے ہوئے مستقبل کا نقشہ بنانا، وقتی حالات سے اوپر اٹھ کر غیر متاثر ذہن کے ساتھ دوبارہ سوچنا، اور یہ معلوم کرنا کہ پیش آمدہ حالات میں زیادہ مؤثر عمل کیا ہو سکتا ہے۔ صبر کا مطلب پسپائی نہیں ہے، بلکہ زیادہ بہتر اقدام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک طریق عمل کار گر ثابت نہیں ہوا تو اس کے بعد یہ دریافت کرنا کہ دوسرا از زیادہ مؤثر طریقہ عمل کیا ہو سکتا ہے۔ صبر کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی حالات کا شکار (victim) نہ بنے، وہ حالات سے غیر متاثر رہ کر سوچے، وہ ردعمل (reaction) سے اوپر اٹھ کر مثبت ذہن کے ساتھ منصوبہ بندی کرے ۔ انسان کی زندگی میں ایسی صورت حال بار بار پیش آتی ہے۔ انفرادی زندگی میں بھی اور اجتماعی زندگی میں بھی ۔ اس طرح کی صورت حال میں جو شخص مذکورہ معنوں میں صبر کا ثبوت دے، وہی اس دنیا میں کامیاب ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2017 All issues